ریسرچ پیپر اشاعت میں نیا گورکھ دھندا،پروفیسرز جرنلزایڈیٹر بن بیٹھے،یونیورسٹیاں بانٹ لیں 

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھی کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں ریسرچ پیپرز اور ریسرچ جرنلز کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے ڈیپارٹمنٹس کے کچھ پروفیسر حضرات اپنے اپنے جرنلز ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور کروا کر ازخود ان جرنلز کے ایڈیٹر بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہر سال بہت سے ریسرچ پیپرز دوسری یونیورسٹیوں کے اپنے دوست پروفیسرز کےجرنلز میں شائع کروا کر اپنے جرنلز میں دوسری یونیورسٹیوں میں تعینات اپنے دوست پروفیسرز کو نوازتے رہتے ہیں۔ ان تمام جرنلز کے ریویورز یا تو ان ایڈیٹر حضرات کے دوست پروفیسر ہیں یا پھر کچھ انکشافات کے مطابق ریویورز کے جعلی ایم میلز بنا کر خود ہی ان ریسرچ پیپرز کی منظوری حاصل کر لی جاتی ہے۔ جیسے ہی ان لوکل جرنلز کی مینجمنٹ مخالف گروپ کے پاس آتی ہیں تو پھر اس عرصہ میں مخالف گروپ کے ریسرچ پیپرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور پچھلے گروپ کے ریسرچ پیپرز میں کمی ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر ٹیچرز حضرات کے ریسرچ پیپرز کی پروموشن کا ٹائم قریب آنے کی صورت میں ان ٹیچرز حضرات کے ریسرچ پیپرز کی انہی جرنلز میں پبلشنگ میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے چنانچہ لیکچرار سے اسسٹنٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر سے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر سے پروفیسر حتہ کہ وائس چانسلر بننے کے لیے مطلوبہ ریسرچ پیپرز کی تعداد اس باہمی تعاون سے بآسانی حاصل کر جاتی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے افراد ایڈیٹر حضرات کو ان کے جرنلز کی کلر پبلشنگ کے اخراجات ادا کرنے کی بھی پیشکش کر دیتے ہیں اور محدود پیمانے پر شروع ہونے والا یہ کام چند ہی سالوں میں عروج پر پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کی مختلف جامعات کے یہ تمام ریسرچ جرنلز زیادہ تر Y کیٹیگری میں ہیں۔ جن کا impact factor کوئی نہیں ہوتا اور نا ہی ان جرنلز میں بھیجے گئے ریسرچ پیپرز میں کوئی درستگی بھیجی جاتی ہیں جبکہ انٹرنیشنل جرنلز میں ان ریسرچ پیپرز کو جانچنے اور ان کی اصلیت دیکھ کر شائع کرنے میں ہی کافی مہینے یا بعض اوقات دو دو سال بھی لگ جاتے ہیں۔ لوکل جرنلز کے ریویورز یا تو اعلیٰ کارکردگی کے حامل نہیں یا پھر جعلی ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ان جرنلز کی کارکردگی کو بھی جانچنے کا کوئی منظم طریقہ کار نہیں ہے اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن اس پر کوئی توجہ بھی نہیں دے پا رہی۔ اور اس وقت پاکستان میں متعدد پروفیسر حضرات صرف اور صرف ان لوکل Y کیٹیگری جرنلز میں ریسرچ پیپرز شائع کرکے بہت سی اہم اسامیوں پر تعینات ہیں جو کہ نہ صرف تعلیمی بددیانتی ہے بلکہ اس مقدس پیشے کے ساتھ بھی بہت بڑا دھوکہ ہے۔پروموشن حاصل کرنے کے لیے محض ایک نمبر گیم جاری ہے اور جو ٹیچر اس طرح کے طریقوں سے پیپر پبلش کروا لیتا ہے وہ پروموشن حاصل کر لیتا ہے اور جو بندہ خود اپنی محنت کرتا رہتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بعض سینئر پروفیسر حضرات کا کہنا ہے کہ پروموشن کے لیے دیگر انڈیکیٹرز بھی دیکھنے چاہیں۔ صرف پیپرز کو دیکھ کر ترقی دینا ایک بہت بڑی نا انصافی اور تعلیمی سرقہ ہے۔ کچھ لوگوں نے اس چور راستے کو سمجھ لیا ہے وہ ترقی کر رہے ہیں اور قابل ٹیچرز پیچھے رہ جاتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں