ریسرچ پیپرز، تھیسزمیں اے آئی استعمال ،جھوٹا پراپیگنڈا ،ایچ ای سی نے پالیسی وضع نہیں کی :اہل دانش کی متضاد آراء

روزنامہ’’ قوم‘‘ میں25 جنوری2025 کو شائع ہونے والی خبر کا عکس۔

ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی تعلیمی ریسرچ اور تھیسز میں ورڈ سپنرز اوراے آئی سوفٹ ویئرز کے ذریعے سرقہ پر مبنی منفرد اور معلوماتی خبر نے اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسر حضرات اور معتبر تعلیمی حلقوں میں ایک صحت مند بحث کا بھرپور موقع فراہم کر دیا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اہل دانش کی طرف سے اس پر مختلف قسم کے مثبت و منفی تاثرات دیکھنے میں ملے۔ چونکہ یہ ایک عوامی مسئلہ اور تعلیمی حلقے سے وابستہ چند اساتذہ کرام کی یہ ایک بڑی چوری تھی اور روزنامہ قوم نے ایک مفصل ریسرچ اور طویل روابط کے بعد یہ معاملہ اٹھایا تھا اس لئے اس ایشو کےبارے میں تعلیمی اور عوامی تاثرات کچھ اس طرح سامنے آئے جو خاصے دلچسپ رہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ریسرچر کے مطابق جس طرح بندوق کے غلط استعمال پر تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں اسی طرح اے آئی کا ممکنہ اثر اس سے بھی زیادہ برا ہو سکتا ہے۔ درحقیقت اے آئی میں پورے معاشرے کو تعلیم اور تحقیق کو مختلف اشکال دینے کی صلاحیت پنہاں ہے لہذا ہم اے آئی کا استعمال اور انتخاب کیسے کرتے ہیں، یہی بات اہم ہے اس سے یہ طے ہو گا کہ کیا یہ صحیح یا غلط استعمال کے لیے ایک منفرد طاقت ہے۔ ایک معزز ریسرچر نے اسے جھوٹا پراپیگنڈہ قرار دیا۔ جبکہ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی ایک معزز ریسرچر ڈاکٹر سارہ نے اس خبر کو بالکل درست قرار دیا۔ اس ریسرچ کو جھوٹا پراپیگنڈہ قرار دینے والے ریسرچر ڈاکٹر فرحان کے مطابق ایک زرد صحافی اس کے لیے تمام سینئر اساتذہ، سپروائزرز اور وائیوا میں بیٹھے ریسرچ ماہرین حتیٰ کہ سینئر وی سی کو بھی قصور وار نہیں ٹھہرا سکتا جس پر ایک ریسرچر کے مطابق یہ زورد یا سرخ صحافی کو اس بارے میںعلم نہیں ہے کہ ورڈ اسپنرز اور چیٹ جی پی ٹی کا استعمال اب بہت عام ہے حتیٰ کہ چین سے پی ایچ ڈی کرنے والے ایک طالب علم نے بھی چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ طالب علم نے اس خبر کو پڑھ کر قبول کیا اور اس کی تصدیق کی۔ ایک ریسرچر ڈاکٹر غلام غوث نے بھی اس کی تصدیق کی اور کہا کہ طلباء و طالبات اسے امتحانات، اسائنمنٹس اور پروجیکٹس میں دھوکہ دہی کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہدایت اللّٰہ خان کے مطابق پہلے یہ بوٹی مافیا تھا، پھر کاپی پیسٹ، اور اب اے آئی سے مواد تیار کرنا شروع کر رکھا ہے اور مستقبل میں یہ کچھ اس سے بھی بڑھ کر ہو گا،اصل مسئلہ کوششوں کی کمی، اصلیت کی جستجو، اور شارٹ کٹ استعمال کرنا ہے۔ ایک ریسرچر کے مطابق اگر چائینہ میں کوئی پاکستانی اسطرح کے شارٹ کٹ استعمال کرتا ہے تو چائنہ کی ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ان کے وائس چانسلرز کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے۔ ایک اور ریسرچر کے مطابق یہ ہماری غلطی ہے اور ہم صحافیوں کی رپورٹس کو زرد صحافت شائد اس لئے قرار دیتے ہیں کہ وہ حقائق کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جو ہر عام آدمی کو معلوم نہیں۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ صحافی جس نے اس معاملے کو اٹھایا ہے، وہ عام صحافیوں سے کافی اعلیٰ صلاحیت کا حامل ہے اور یہ اس لیے کہ اس نے کچھ اندر کی بات کو بے نقاب کیا ہے۔ لیکن ہم اسے زرد صحافت ہی کہیں گے کیونکہ اسے ہمیں بے نقاب نہیں کرنا چاہئے تھا۔ ایک اور ریسرچر کے مطابق شاید مسئلہ خود اے آئی کا نہیں ہے، بلکہ اس کی اہمیت ہے جو ہم اپنی تعلیم میں اخلاقیات اور اخلاقی اقدار کو دیتے ہیں۔ یہ نہ تو بوٹی، نہ اے آئی کا مسئلہ ہے یہ بلکہ ذہنیت کا مسئلہ ہے جبکہ ایک ریسرچر کے مطابق بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے طلبہ کے تحقیقی مقالوں پر صحیح معنوں میں توجہ نہیں دیتے اس لیے طلبہ ان ذرائع کو استعمال کرتے ہیں اور طلبہ مکمل طور پر اس قسم کے چور راستے ڈھونڈنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی کراچی سے تعلق رکھنے والے ریسرچر الیکٹریکل انجینیرنگ ڈاکٹر شہزاد اشرف کے مطابق تاحال ایچ ای سی ، حتی کہ انٹرنیشنل ریسرچ ایجنسیز نے بھی اے آئی ٹولز کے بارے میں آج تک کوئی پالیسی وضع نہیں کی۔چنانچہ اس کا انحصار ریسرچ پیپرز اور تھیسز کے ریویورز پر بھی تو ہوتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں