بشارت نبی نے 50 سے زائد لوگوں کی درخواستیں سنیں، ڈپٹی ڈائریکٹر راؤ عبدالغفار اور سرکل آفیسر محمد ساجد کوایک ہفتے میں فیصلےکا حکم
خانیوال میںسرکاری منصوبوں کی کل مالیت کا پچاس فیصد کرپشن کی نذرہوجاتاہے: ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی صحافیوں اور عوام سے گفتگو

خانیوال (کرائم رپورٹر)ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کی ہدایت پر ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان بشارت نبی نے ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن خانیوال کے دفتر کھلی کچہری لگائی جس میں 50 سے زائد لوگوں کی درخواستیں سنیں جس پر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بشارت نبی نے ڈپٹی ڈائریکٹر خانیوال راؤ عبدالغفار اور سرکل آفیسر محمد ساجد کو حکم دیا ہے کہ ان درخواستوں کو ایک ہفتے کے اندر میرٹ پر فیصلہ کر کے رپورٹ پیش کریں جس میں سب سے زیادہ محکمہ ریونیو ، پٹواریوں،تحصیلداروں ، واسا ،ٹی ایم اے،پی ایچ اے،پولیس، ایریگیشن،بلڈنگ اور محکمہ انہار کے خلاف درخواستیں موصول ہوئیں۔ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بشارت نبی نے صحافیوں اور عوام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ میں میرٹ پر فیصلہ کروں گا اور اگر کسی نے جھوٹی درخواستیں دیں تو ان کے خلاف 182 کی کارروائی کروں گا حکومت پنجاب کے زیرو ٹالرینس پالیسی اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کے ویژن پر سختی سے عمل پیرا ہو جمعہ کو ھونے والی ڈائریکٹر انٹی کرپشن ملتان کی کھلی کچہری میں شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیے شہریوں نے بتاہا کہ بلدیہ خانیوال ان لوگوں کی اکثریت کا مورچہ ھے جو بدعنوانی کے حمام میں پوری طرح الف ننگے ھیں ۔خانیوال بلدیہ اور ضلع کونسل سمیت دیگر سرکاری اداروں میں جس وسیع پیمانے پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے وہ اضلاع سے کچھ بڑھ کر ہے۔ بدعنوانی تو پورے ملک میں عام ہے لیکن جو چیز خانیوال ملک کے دوسرے شہروں سے مختلف بناتی ہے وہ ہے یہاں پر کرپشن کا ہمہ گیر ہونا اور اس کی شرح کا بہت زیادہ ہو جانا ۔خانیوال میں سرکاری منصوبوں کی کل مالیت کا نصف فیصد کرپشن کی نذر ہوتا تھا، اس رقم میں سے بدعنوان سرکاری عملہ اپنا اپنا حصّہ بانٹ لیا کرتا تھا۔ اب بڑھتے بڑھتے یہ حصّہ کُل رقم کے تیس سے پچاس فیصد تک جا پہنچا ہے۔ اگر کوئی پراجیکٹ کاغذوں کے مطابق مکمل ہو جائے تو سمجھا جاتا ہے کہ اس کی کل رقم کا تیس فیصد تک سرکاری افسروں اور سیاستدانوں نے کھایا ہے اور باقی رقم منصوبے پر خرچ ہوئی ہے ۔تاہم اگر منصوبہ کی تکمیل میں زیادہ گڑ بڑ کی جائے اور ناقص میٹریل اور سامان استعمال کیا جائے تو بدعنوانی کی نذر ہونے والی رقم کا تخمینہ کل پراجیکٹ کے پچاس فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ ترقیاتی بجٹ سے کرپشن کی بھینٹ چڑھنے والی رقم ہی تین چار سو ارب روپے سالانہ سے کم نہیں۔ خانیوال کے مختلف سرکاری اداروں کے افسروں اور اھلکاروں پر بھی کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ عام طور پر بڑے عہدہ پر فائز لوگ بڑے بڑے منصوبوں میں کمیشن کھایا کرتے ہیں مگر خانیوال سرکاری افسروں کے اپنے کلرکوں کے زریعے پیسے پکڑنے کی باتیں عام ہیں۔اعلیٰ سرکاری سطح پر کرپشن کے علاوہ رشوت خوری پورے انتظامی ڈھانچہ کا لازمی حصّہ بن چکی ہے۔ ہر روز بے شمار مواقع پر رشوت کا لین دین ہوتا ہے۔سرکاری ادارے جو خریداری کرتے ہیں ان میں کمیشن کھائی جاتی ہے ۔ لوگ پنشن کے لیے اکائونٹنٹ آفس کے دھکّے کھاتے ہیں۔ اپنی زمین کی ملکیت کی فرد لینے کے لیے پٹواریوں اور ان کے منشیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اپنی اصل آمدن کو ٹیکس سے بچانے کے لیے ایف بی آر کے اہلکاروں کی جیبیں بھرتے ہیں۔ اپنا تبادلہ رکوانے یا کروانے کے لیے افسروں کی مٹھیاں گرم کرتے ہیں، نوکری لینے کے لیے سیاستدانوں اور افسروں کو بھاری رقوم ادا کرتے ہیں۔ پولیس کے ظلم سے بچنے کے لیے یا ظلم کروانے کے لیے تھانہ کے اہلکاروں کا پیٹ بھرتے ہیں۔حتیٰ کہ اگر آپ کو اپنی جائز شکایت کی ایف آئی آر درج کروانا ہو تو اسٹیشنری کے نام پر تھانہ کے محرر کو ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔حد تو یہ ہے کہ ہمارا ضلعی سطح تک عدالتی نظام انتہائی کرپشن کا شکار ہے۔ سول اور سیشن عدالت میں ہر کام کا ایک نرخ مقرر ہے۔ لوگ قتل کرتے ہیں، پولیس کے تفتیشی افسر کو رشوت دے کر تفتیش خراب کرا دیتے ہیں۔ مجسٹریٹ یا جج کو رشوت دے کر ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں ۔ بدعنوان سرکاری ملازمین اور ان کے سرپرست سیاستدان جتنی رقم ٹیکس کی صورت میں سرکاری خزانے کے لیے وصول کرتے ہیں ،تقریباً اتنی ہی رقم وہ اپنے اپنے ذاتی اکائونٹ کے لیے مختلف مدّوں میں عوام سے وصول کرتے ہیں۔ یہ وہ ادارہ جاتی بدعنوانی ہے جو خانیوال میں رائج ہے شہریوں نے بتایا کہ خانیوال میں کرپشن ایک انتظامی مسئلہ تو ہے لیکن اس سے بڑھ کر اب یہ عوام کے لاکھوں عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے۔ کرپشن کی وجہ سے غریب اور کم آمدن والے لوگ آئینی اور قانونی حقوق سے محروم ہو گئے ہیں کیونکہ عدالتوں سے انصاف لینے کے لیے اور سرکاری اداروں سے اپنے جائز قانونی حقوق لینے کے لیے رشوت درکار ہے۔ ملک کی اسّی فیصد غریب عوام کے پاس دو وقت کی روٹی کھانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے، وہ رشوت دینے کے لیے پیسے کہاں سے لا سکتے ہیں۔ خانیوال کی اٹھاون فیصد آبادی رشوت دیکر کام کرواتی ھے سفارش نہ ھو تو قصائی سے کلو گوشت نھی ملتا۔ ایک شہری نے بتاہا خانیوال میں گوشت کے پھٹے سے بڑی بیکریوں تک لوٹ مار کا بازار گرم ھے شہر کی کسی بیکری نے ریٹ کم نھی کیے اگر پوچھا جائے تو کہتے ہیں ہم نے وزن بڑھا دیا اور جواب بزات خود جھانسہ ھے اور دھوکہ بھی ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر سال سیکڑوں ارب روپے عوام کی تعلیم اور صحت کے منصوبوں پر خرچ کرتی ہیں مگر بدعنوانی کی وجہ سے ان کا فائدہ عام آدمی کو نہیں پہنچ پاتا۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ خانیوال کا عام بے وسیلہ شہری ریاست سے اجنبیت اور مغائرت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اسے پولیس ، عدالت ، اسپتال اور اسکول سے جائز استفادہ اور قانونی حقوق میسّر نہیں۔ شہریوں نے بتایا کہ سرکاری زمین پر قبضہ واگزار کروانا ریاست کے بس کی بات نھی پٹواری 32/34 کی کاروائی کے احکامات کی کاپی مافیا کو دیتے ھیں تاکہ اپریشن سے پہلے لینڈ مافیا سٹے حاصل کرلے کیا۔ جس کی ایک مثال 78 دس آر خانیوال میں چار بھائیوں۔ شوکت، خادم، خیرات اور طالب وغیرہ سمیت دیگر قبضہ گروپ کروڑوں روپے مالیت کی زمین پر قبضہ اور خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔ ان کے خلاف دفعہ32/34 کے آرڈرہوچکے مگر انہوں نے ایڈیشنل کمشنر اشتعمال ملتان کی عدالت سے سٹے حاصل کرلیا۔ اس کی آڑ میں تعمیرات جاری ہیں۔ریاست کی زمین کا قبضہ ختم کروانے کیلے قانون کو سختی سے نمٹنا ہوگا۔ مقامی سماجی شخصیت سید ثاقب نقوی نے سابق ڈپٹی کمشنر ریونیو خانیوال عزوبا عظیم کی مثال دیتےہوئے بتایا کہ اس ایماندار افیسرنے بلدیہ سے پٹرول چوری کا خاتمہ کیا یہ ذمہ داری ایک اہلکار اجمل خان ڈاھا کو سونپی لاکھوں روپے ماھانہ پٹرول کی چوری رک گئی۔ اگر کوئی کام کرنا چاہے تو کرپشن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ہمارےہاں وسائل کی قلت نہیں ،نیت کا کھوٹ ہے۔







