چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

تازہ ترین

روس کا دنیا کے جدید ترین اور تباہ کن کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

ماسکو: روس نے اپنی دفاعی برتری کو ایک بار پھر دنیا پر آشکار کرتے ہوئے جدید ترین کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ یہ تجربہ شمالی سمندر میں واقع بحیرہ برینٹس کے علاقے میں کیا گیا، جہاں روسی بحریہ کی نیوکلیئر آبدوز “اوریل” نے اہم کردار ادا کیا۔
یہ ایٹمی آبدوز روس کے جدید 949A اینتے کلاس کے تحت تیار کی گئی ہے، جو اپنے زمرے میں تباہ کن صلاحیتوں کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ اس آبدوز کو گرانیٹ کروز میزائلوں سے لیس کیا گیا ہے، جنہیں عام بحری کروز میزائلوں کے مقابلے میں نہ صرف کئی گنا زیادہ بڑا بلکہ کہیں زیادہ مہلک تصور کیا جاتا ہے۔
ہر اینتے کلاس آبدوز میں 24 گرانیٹ میزائل نصب ہوتے ہیں، جو 500 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود انتہائی محفوظ اہداف جیسے کیریئر اسٹرائیک گروپس کو بھی ہدف بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
“اوریل” آبدوز صرف سمندری جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ساحلی علاقوں اور فضائی اہداف پر بھی مہلک حملے کرنے کی استعداد رکھتی ہے۔ حالیہ مشقوں میں اس نے فرضی دشمن کے ڈرونز، جنگی طیارے اور ریموٹ کنٹرول بوٹس کو کامیابی سے تباہ کیا، جب کہ دور دراز علاقوں میں بھی نشانے لگا کر اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ روس کی بحری طاقت میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو اس کے اسٹریٹجک اثرورسوخ اور تکنیکی برتری کو عالمی سطح پر مزید مستحکم کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔ سوویت دور کے بعد اینتے کلاس آبدوزوں کو بحری جنگی نظام کا سب سے مؤثر ہتھیار تصور کیا جاتا ہے، اور یہ حالیہ کامیاب تجربہ اسی حقیقت کا عملی ثبوت ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں