(رحیم یارخان) 114
اساتذہ سے رشوت لیکربھجوائے پروموشن کیسز واپس،جونیئر کلرکوں کو وختہ
رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)اساتذہ پرموشن کیسز،جونیئر کلرک سینئر اساتذہ کے مستقبل سے کھیلنے لگے،ڈی او سیکنڈری آفس کے جونیئر کلرکوں نے 275پرموٹڈ کیسوں میں 114 کیسزجعلی دستخط کرکے ڈائریکٹر پبلک انسپکشن پنجاب لاہور کو بھجوا دئیے،کیسز اور ڈیٹا نا مکمل ڈی پی سی نے فائلز واپس بھجوا دی،جمعرات تک ٹائم،اساتذہ کی اے سی آرز مکمل کرکے بھجوانے کا حکم،ڈی او سیکنڈری آفس میں تعینات جونیئر کلرکوں نصراللہ لنگاہ اور عمران درانی نے فی اے سی آرز کی مد میں پرموشن کیلئے اپلائی کرنیوالے اساتذہ سے 30سے 50ہزار روپے وصول کئے،ڈی او سیکنڈری سمیت ریٹائرڈ اور فوت شدہ افسران کے کاؤٹر سائن کئے جانے کا انکشاف،پرموشن کیلئے اپلائی کرنیوالے اساتذہ کرام کا خاموش احتجاج،وزیر اعلیٰ پنجاب،سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔تفصیل کے مطابق رحیم یارخان سمیت ضلع بھر میں گریڈ 16سے گریڈ 20تک کے 275سے زائد اساتذہ کرام نے پر موشن کیلئے اپلائی کیا،جس کی اے سی آرز ڈی او سیکنڈری ملک عامر کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس سیکنڈری میں تعینات کلرکوں نصراللہ لنگاہ اور عمران درانی نے لکھنا تھی،
جنہوں نے پروموشن کیلئے اپلائی کرنے والے اساتذہ کرام کی اے سی آرز لکھنے کے 30سے 50ہزار روپے کے ریٹ مقرر کر دئیے،محکمہ ایجوکیشن کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈی او سیکنڈری آفس میں تعینات جونیئر کلرکوں نصر اللہ لنگاہ اور عمران درانی نے پرموشن کیلئے اپلائی کرنے والے 275اساتذہ کرام سے فی اے سی آرز لکھنے کی مد میں 15ہزار سے لیکر 50ہزار روپے وصول کئے ،ذرائع نے بتایا کہ ڈی او سیکنڈری آفس میں تعینات کلرکوں نصراللہ لنگاہ اور عمران درانی نے ڈی او سیکنڈری ملک عامر سمیت ضلع بھر کے موجودہ و ریٹائرڈ افسران،سکول پرنسپلان اور سکولز ہیڈ کے جعلی دستخط کرکے114 اساتذہ کرام کے پرموشن فائلز کیسز ڈائریکٹر پبلک انسپکشن پنجاب لاہور کو بھجوا ئیں ،جہاں پر کاؤٹر چیک کے دوران تمام 114کیسز نامکمل پائے گئے
،ڈائریکٹر پبلک انسپکشن پنجاب لاہور نے ضلع رحیم یارخان کی تمام فائلز اور کیسز محکمہ ایجوکیشن رحیم یارخان کو دوبارہ واپس بھجوا دئیے اور 27جون بروز جمعرات کو اساتذہ کرام کے تمام کیسز مکمل کرکے لانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ ڈی او آفس کے جونیئر کلرکوں نے 275سے زائد اساتذہ کرام سے لاکھوں روپے کی رشوت وصول کرنے کے باوجود کوئی بھی کیس مکمل کرکے نہیں بھیجا،محکمہ ایجوکیشن کے ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈی او آفس کے جونیئر کلرکوں عمران درانی اور نصراللہ لنگاہ نے ضلع بھر کے تمام ہائر سیکنڈری،سیکنڈری ایلیمنٹری سکولوں کے سربراہان اور افسران کے جعلی دستخط کئے ہیں،ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ضلع رحیم یارخان کے کئی سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹر ریٹائرڈ اور درجنوں فوت ہو چکے ہیں،جن کے جعلی دستخط اے سی آرز پر کئے گئے ہیں،ڈائریکٹر پبلک انسپکشن پنجاب لاہور سے پرموشن کیسز کی فائلز واپس آنے پر ڈی او سیکنڈری آفس کے جونیئر کلرکوں کوجان کے لالے پڑ گئے اور پر موشن کیسز کو مکمل کرنے کیلئے سرکاری سکولوں کے منت ترلے اور کئی سکولوں کے سربراہان کو ڈرا دھمکا کر اے سی آرز پر دستخط کروانے کیلئے پلان ترتیب دیا گیا ہے،
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ جونیئر کلرک مافیا نے سرکاری سکولوں کے سربراہان سے اے سی آرز فائلز پر دستخط کروانے کیلئے محکمہ ایجوکیشن کے انتظامی افسران کو بھی مبینہ رشوت کی پیش کش بھی کی ہے جس میں ڈی او سیکنڈری ملک محمد عامر،ڈی او ایلیمنٹری،سی ای او ایجوکیشن آفس میں تعینات افسران اور اہلکاروں کی خدمات حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارے جا رہے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ ڈی او سیکنڈری ملک عامر اپنے کماؤ پتروں نصر اللہ لنگاہ اور عمران درانی کی لوٹ مار میں حصہ وصول کرنے کے بعد سیکنڈری،ہائر سیکنڈری سکولوں کے سربراہان سے اے سی آرز پر دستخط کروانے کیلئے متحرک ہوگئے ہیں اور سرکاری سکولوں کے سربراہان کو پرموشن کیسز پر دستخط کروانے کیلئے ڈی او آفس ایجوکیشن آفیسز میں پابند کرکے اے سی آرز پر دستخط کروا رہے ہیں جبکہ فوت شدہ سرکاری سکولوں کے افسران کی جگہ موجودہ سکولز پرنسپلز اور سکولز ہیڈ سے دستخط کرواکے پیسے کھرے کئے جا رہے ہیں،اس بارے میںجب موقف جاننے کیلئے ڈی او سیکنڈری ملک عامر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا جبکہ جونیئر کلرکوں نصراللہ لنگاہ اور عمران درانی کا کہنا تھا کہ اساتذہ کرام کی جانب سے لگائے جانیوالے الزامات جھوٹ اور بے بنیاد ہیں ڈی او آفس میں میرٹ پر کام ہو رہا ہے ڈائریکٹر پبلک انسپکشن پنجاب لاہور سے پرموشن کیسز کی واپسی کے سوال پر جونیئر کلرکوں کا کہنا تھا کہ ہمارا کام اے سی آر لکھنا اور ان پر افسران کے دستخط کروانا ہے، کیسز واپس کیوں آئے اس کا جواب سی ای او ایجوکیشن طارق جمیل بلوچ یا پھر ڈی او سیکنڈری ملک عامر دے سکتے ہیں۔






