لودھراں (سٹی رپورٹر)رجسٹری برانچ لودھراں میں مبینہ طور پر ٹاؤٹ مافیا کا راج قائم ہے، جہاں کمپیوٹر آپریٹرز اور دیگر اہلکاروں کی ملی بھگت سے شہریوں کو شدید ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق رجسٹری برانچ میں سائلین کے کام میرٹ پر کرنے کے بجائے مخصوص ایجنڈوں اور ٹاؤٹوں پراپرٹی ڈیلرکے ذریعے پکڑے جاتے ہیں جبکہ براہِ راست آنے والے شہریوں کو مختلف بہانوں سے ٹرخا دیا جاتا ہے۔متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ رجسٹریوں میں جان بوجھ کر اعتراضات لگائے جاتے ہیں، فائلیں نامکمل قرار دے کر روکی جاتی ہیں اور اندراج میں بلاجواز تاخیر کی جاتی ہے۔ تاہم جو افراد ٹاؤٹ مافیا پراپرٹی ڈیلرکے ذریعے بھاری رقوم ادا کرتے ہیں، ان کی رجسٹریاں مبینہ طور پر تحصیلدار کو دکھا کر فوری طور پر پاس کروا دی جاتی ہیں۔تحصیلدار کا حصہ اسے دے دیا جاتا ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ رجسٹری برانچ میں تعینات بعض کمپیوٹر آپریٹرز اور دیگر اہلکار کے نام اگلے فالو اپ میں ہوں گے۔ مخصوص ایجنٹوں پراپرٹی ڈیلرز اسٹام فروش کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور بغیر نذرانہ دیے کسی شہری کا کام آگے نہیں بڑھایا جاتا۔ شکایت کرنے والوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث عام شہری شکایات درج کرانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس صورتحال نے رجسٹری برانچ کے نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور سائلین گھنٹوں بلکہ دنوں تک دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مبینہ کرپشن اور ٹاؤٹ مافیا کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔سرکاری خزانے کو بھی لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہےعوامی اور شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، بورڈ آف ریونیو اور ڈپٹی کمشنر لودھراں سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹری برانچ لودھراں میں جاری مبینہ کرپشن، ٹاؤٹ مافیا اور اہلکاروں پراپرٹی ڈیلر اور اسٹام فروش کی ملی بھگت سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانا سرکاری عملے کے ساتھ ملی بھگت کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کروائی جائے اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔







