رحیم یارخان(نمائندہ خصوصی)یونین کونسلوں کے سیکرٹریز نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کو چیلنج کر دیا،بنیادی شہری دستاویزات کی مد میں رشوت وصولی کے انکشافات نے تہلکہ مچا دیا،افسران لاعلم نکلے،سیکرٹریز یونین کونسلز،کلرک اور درجہ چہارم عملہ نےب فارم،ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور کمپیوٹرائزڈ نکاح نامے جاری کرنے کے ریٹس فکس کردیئے،ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سمیت دفتر میں بیٹھے افسران کا پیٹ بھرنے کیلئے زائد فیسیں وصول کرتے ہیں،سیکرٹریز کی ’’آف دی ریکارڈ‘‘گفتگو،برتھ فارم 10 ہزار،ڈیتھ سرٹیفکیٹ 15 ہزار ،کمپیوٹر ائزڈ نکاح نامہ 20 ہزار میں بنایا جاتا ہے،شہریوں کے الزامات،پنجاب لوکل گورنمنٹ کے قوانین کے مطابق برتھ سرٹیفکیٹ کی 7 سال تک کوئی فیس نہ ہے،ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور نکاح نامہ کی سرکاری فیس 200 روپے مقرر ہے،جبکہ شہریوں سے لیٹ اندراج،عدالتی پراسس،افسران کی منظوریوں کے نام پر ہزاروں روپے وصول کئے جارہے ہیں۔تفصیل کے مطابق ضلع رحیم یارخان میں 139 یونین کونسلیں موجود ہےجہاں پر برتھ سرٹیفکیٹ،ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور کمپیوٹرائزڈ نکاح ناموں کے اجراء کی مد میں سائلین سے رشوت وصولی کئے جانے کا انکشاف نے ضلع بھر میں تہلکہ مچا دیا ہے جبکہ لوکل گورنمنٹ کے افسران سیکرٹریز یونین کونسل کی رشوت کی اس”باریک”واردات سے لاعلم نکے ہیں۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یونین کونسل تاج گڑھ کے سیکرٹری سید راشد شاہ بخاری،کوٹ مہدی شاہ کے سیکرٹری حق نواز،آباد پور کے سیکرٹری خضر حیات،راجن پور کلاں کے سیکرٹری رئیس وحید،چوک بہادر پور کے سیکرٹری سلیم خان،بدلی شریف یونین کونسل کے سیکرٹری حسین احمد سمیت یونین کونسل شاہ پور،یونین کونسل دولت پور،یونین کونسل رکن پور،یونین کونسل کوٹ کرم خان،یونین کونسل احمد پور لمہ،یونین کونسل سنجر پور،یونین کونسل کو ٹ سبزل،یونین کونسل بھونگ،یونین کونسل ولانہ،یونین کونسل رانجھے خان کے سیکرٹریز ،کلرکوں اور درجہ چہارم کے ملازمین نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ،برتھ سرٹیفکیٹ اور نکاح نامے کے پارچات جاری کرنے کے ریٹس مقرر کر رکھے ہیں،ذرا ئع کےمطابق برتھ سرٹیفکیٹ 10 ہزار،ڈیتھ سرٹیفکیٹ 15 ہزار اور کمپیوٹرائزڈ نکاح ناموں کی مد میں 20 ہزار روپے وصول کئے جا رہے ہیں۔پنجاب لوکل گورنمنٹ کے قوانین اور یونین کونسلوں میں آویزاں فلیکسز کے مطابق پیدائش،اموات کی رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹ کے کوئی فیس مقرر نہ ہے،پیدائش کا تاخیری اندراج 7 سال بعد 200،فوتگی کا تاخیری اندراج 7 سال بعد 1000،تصیح یا تبدیلی کی فیس 500اور ڈوپلیکیٹ سر ٹیفکیٹ کی فیس 200 روپے مقرر ہے جبکہ یونین کونسلوں میں ہزاروں روپے وصول کئے جا رہے ہیں۔متاثرہ شہریوں محمد حفیظ،عبداللہ ،عرفان علی ،حاکم حسین،میاں طالب،شیر بانو،قدسیہ بی بی،جنت مائی،حافظہ بی بی،شمائلہ خاتون،نصرت بی بی،ساجدہ مائی و دیگر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقررہ سرکاری فیس چند سو روپے ہونے کے باوجود سائلین کو مختلف اعتراضات اور تاخیری حربوں کے ذریعے مبینہ طور پر اضافی رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے،متاثرین کا کہنا تھا ہمیں کہا گیا کہ اگر فوری نکاح نامہ چاہیے تو 20 ہزار روپے دینا ہوں گے، ورنہ فائل کئی ہفتے لٹکی رہے گی، غریب آدمی کے پاس اور کیا راستہ رہ جاتا ہے؟تحقیقی جائزے کے مطابق یونین کونسل کے تحت نکاح نامہ رجسٹریشن، ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اجرا اور لیٹ اندراج کی سرکاری فیس محدود اور سرکاری شیڈول کے مطابق ہوتی ہے، جس کی وصولی سرکاری رسید کے ذریعے کی جاتی ہے،پنجاب حکومت کے قوانین کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم رسید کے بغیر رقم وصول کرے تو یہ عمل پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947ء اور پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہو سکتا ہے۔متاثرہ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب،چیف سیکرٹری پنجاب،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ،ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری آڈٹ کرایا جائے، گزشتہ ایک سال کے جاری کردہ سرٹیفکیٹس کا ریکارڈ چیک کیا جائے اور سرکاری فیسوں کی فہرست نمایاں طور پر دفاتر کے باہر آویزاں کی جائے،دوسری جانب محکمہ لوکل گورنمنٹ کے افسران سیکرٹریز یونین کونسلوں کے رشوت وصولی کے وارداتوں سے لاعلم نکلے،انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے معلومات ملی ہیں جن پر خفیہ انکوائری کروائی جارہی ہے،اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو سیکرٹریز اور عملہ کیخلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی،عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور تحقیقاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ بنیادی شہری سہولیات کو بدعنوانی سے پاک بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور سرکاری اداروں کی ساکھ مضبوط ہو سکے۔







