رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)ضلع رحیم یارخان میں اندھڑ،شر اور کوش گینگ کا”ٹرائیکا”ایک بار پھر اپنی دھاک بٹھانے میں کامیاب ہوگئے،اغواء برائے تاوان،ہنی ٹریپ کا سلسلہ ایک بار پھر سے شروع،کچہ کے ڈاکو موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر اسلحہ کے زور پر سرعام شہریوں کو اغواء کرنے لگے،تاوان کیلئے مغویوں کو زنجیروں میں جکڑ کر ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے لگے،بھونڈی کمال،بھٹہ واہن،صادق آباد،بھونگ،احمد پور لمہ،سنجر پور،سندھ پنجاب بارڈر کوٹ سبزل ڈاکوؤں کے”ہارٹ سپاٹ”پولیس وارداتوں کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام،تقریباً11 ارب روپے کا کچہ آپریشن فنڈز بھی”عین غین”ہوگیا،پولیس روزانہ کی بنیاد پر کچہ میں ٹارگٹڈ آپریشن کرکے مغویوں کو بازیاب کروا رہی ہے،کماد کی فصل اٹھائے جانے کے بعد ڈاکوؤں کیخلاف بھر پور کاروائیاں عمل میں لائی جائینگی،پولیس حکام۔تفصیل کے مطابق ضلع رحیم یارخان میں ایک بار پھر سے”چور پولیس کاکھیل”شروع ہوگیا،کچہ کے بدنام زمانہ اندھڑ،شر اور کوش گینگز نے”ٹرائیکا”بنا کر اغواء برائے تاوان اور ہنی ٹریپ کی وارداتیں شروع کردی ہیں،ذرائع کے مطابق بھونڈی کمام،بھٹہ واہن،صادق آباد،سنجر پور،احمد پور لمہ،بھونگ اور پنجاب سندھ بارڈر ایریا کوٹ سبزل،دعووالہ،کشمور روڈ اغواء کاروں کے”ہارٹ سپاٹ”بن گئے،کچہ کے موٹرسائیکل سوار منہ زور ڈاکو دن دیہاڑے سرعام شہریوں کو اسلحہ کے زور پر اغواء کرکے کچہ لیجانے لگے،کچہ کے ڈاکوؤں کی شہریوں کو اغواء کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز،اغواء کاروں کے چہرے واضح نظر آںے کے باوجود پولیس کچہ کے اغواء کاروں کو پکڑنے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ڈی پی او رضوان عمر گوندل کے دور میں پولیس نے کچہ میں پکہ آپریشن کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کیلئے پنجاب حکومت نے تقریباً11 ارب روپے کی خطیر رقم جنوبی پنجاب کے کچہ آپریشن کیلئے فراہم کی تھی،اربوں روپے کی رقم سے جدید پولیس موبائلز،بکتر بند گاڑیاں،ڈرونز،جدید اسلحہ اور کچہ کے دریائی علاقوں اور کچہ کے اطراف جانے والی سڑکوں پر پکی پولیس پکٹیں تیار کی جانی تھی،ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے جدید پولیس موبائلز،بکتر بند گاڑیاں،نائٹ ویژن گوگلز،اسلحہ تو خرید لیا مگر کچہ کے علاقوں کو ڈاکوؤں سے وگزار کرانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ضلع رحیم یارخان میں نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او عرفان علی سموں نے ضلع رحیم یارخان کا چارج سمبھالتے ہی “ہاف فرائی،فل فرائی”آپریشن شروع کیا گیا مگر کچہ کے ڈاکو پھر بھی پکی وارداتیں کرنے سے باز نہ آئے،ضلع رحیم یارخان میں بڑھتی ہوئی اغواء برائے تاوان کی وارداتوں سے شہری عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز،آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور،ڈی آئی جی ساؤتھ پنجاب محمد کامران خان سے ضلع رحیم یارخان کے کچہ میں پکہ آپریشن کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں،دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کچہ کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کیلئے پولیس روزانہ کی بنیاد پر ٹارگٹڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے اور اغواء کاروں سے روزانہ کی بنیاد پر مغویوں کی بازیابی بھی کروائی جا رہی ہے،پولیس حکام کا کہنا ہے فصل کماد کی کٹائی کے بعد کچہ کے جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پکا آپریشن کیا جائیگا۔
ایک اورہنی ٹریپ،کھوجی کتوں سمیت ٹیم کشمور میں لاپتہ ہوگئی
رحیم یارخان(سٹی رپورٹر) کھوجی کتوں سمیت ٹیم کشمور میں لاپتہ ہوگئی‘ 4روز گذر جانے کے باوجود پولیس سراغ لگانے میں ناکام‘ ورثاء کا تھانے کے باہر احتجاج۔ تفصیل کے مطابق چارروز قبل صادق آباد کے رہائشی عبدالخالق‘ محمد رفیق سولنگی‘ عدنان آرائیں اور جمیل آرائیں پر مشتمل کھوجی ٹیم کوفیصل آباد کے کسی فیک یوٹیوبر نے رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹریکٹر چوری کا سراغ لگانے کیلئے کھوجی کتوں کی ضرورت ہے جس پر کھوجی ٹیم کتوں کے ہمراہ کشمور کے علاقہ میں گئی اور لاپتہ ہوگئی۔ چار روز گذرنے کے باوجود پولیس کی جانب سے لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگائے جانے پر قریبی عزیز حبیب اللہ نے دیگر ورثاء کے ہمراہ تھانہ سٹی صادق آباد کے باہر احتجاج کرتے ہوئے میڈیا کوبتایا کہ وہ اپنے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کبھی کشمور پولیس اورکبھی صادق آباد پولیس کے پاس چکر لگارہے ہیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہورہی۔ انہوں نے بتایا کہ کشمور پولیس کہتی ہے کہ صادق آباد کا واقعہ ہے جبکہ صادق آباد پولیس کا کہنا ہے کہ آپ کے افراد کشمور میں لاپتہ ہوئے ہیں‘سندھ اور پنجاب پولیس جائے واردات کا تنازعہ کرکے مقدمہ درج نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شبہ ہے کہ چاروں افراد کو کتوں سمیت اغواء کرلیاگیا ہے۔دوسری جانب ترجمان پولیس نے بتایا کہ ممکن ہے کہ پرائیویٹ سراغ رساں کتوں کی ٹیم کو ہنی ٹریپ کیا گیاہو‘ لاپتہ افراد کی آخری لوکیشن کشمور سندھ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لئے کشمور پولیس سے رابطہ کیاجارہا ہے۔ ترجمان پولیس نے کہا کہ کچے کے ڈاکو مختلف طریقوں اور لالچ دیکر شہریوں کو بلاکر اغواء کررہے ہیں‘ شہری کسی کے جھانسے اورلالچ میں نہ آئیں۔







