تازہ ترین

رجسڑی برانچ سٹی: عملے، پولیس اور اینٹی کرپشن نے کمشنر کا چھاپہ ناکام بنا دیا، لوٹ مار جاری

ملتان( سٹاف رپورٹر) رجسٹری برانچ سٹی کے کاریگر عملے، مقامی پولیس اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی ٹرائیکا نے کمشنر ملتان کے تین دسمبر 2025 کو سب رجسٹرار سٹی کے دفتر پر مارے جانے والے چھاپے کو قانونی موشگافیوں میں ڈال کر اس کا تمام تر اثر مکمل طور پر زائل کر دیا حتیٰ کہ تحصیلدار ملک جاوید جن کا لاگ ان پرائیویٹ لوگوں کے پاس سے رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جا چکا ہے کو بھی اینٹی کرپشن نے مکمل سہولت کاری فراہم کر دی ہے۔ کاریگر بچ نکلے اور رجسٹری برانچ میں کرپشن کا دھندہ آج بھی مسلسل جاری ہے، عوام پہلے سے کہیں زیادہ رسوا اور سسٹم مزید الجھاؤ کا شکار ہو گیا ہے، حیران کن طور پر جن 78 افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا موقع پر ان سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا اور ایف آئی آر میں جن چار رجسٹریوں کا حوالہ دیکر انہیں جعلی قرار دیا گیا ان میں ایک بھی رجسٹری جعلی نہیں ہے اور یہ تمام تر رجسٹریاں اس چھاپے سے دو سے تین ہفتے قبل کی پاس شدہ ہیں ، بتایا گیا ہے کہ سب رجسٹرار جاوید احمد خان نے مورخہ 6 دسمبر 2025 کو ایس ایچ او تھانہ چہلیک کے نام درخواست میں جو الزام عائد کیا اس میں اصل ملزمان کی مکمل طور پر سہولت کاری کی گئی اور پرائیویٹ مافیا کے تین گروپوں میں سے ایک گروپ کے خلاف کارروائی کرکے باقی دو گروپوں کو تو پولیس کے نام دی گئی درخواست ہی میں کلین چٹ دے دی گئی جو اب بھی کھل کھلا کر کام کر رہے ہیں اور سب رجسٹرار آفس میں نہ صرف رشوت جاری ہے بلکہ پرائیویٹ مافیا کا کنٹرول بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ ایس ایچ او کے نام سب رجسٹرار جاوید احمد خان نے اپنی درخواست میں یہ لکھا کہ معطل شدہ سب رجسٹرار عمران ارشد اور دیگر پرائیویٹ اشخاص جعلی رجسٹریاں تیار کروانے اور پاس کروانے میں مشغول ہیں مگر حیران کن طور پر ایک بھی جعلی رجسٹری سامنے نہیں لائی جا سکی اور درخواست میں جعلی رجسٹریوں کی تیاری کا دعویٰ کرکے جن چار رجسٹریوں کا حوالہ دیا گیا وہ جعلی تو ثابت نہ ہوئیں البتہ ان چاروں میں ٹیکس اور کارپوریشن فیس میں گھپلا کرکے سرکار کو نقصان پہنچانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ سب رجسٹرار جاوید احمد خان نے اپنی درخواست میں سابقہ رجسٹرار محمد عمران ارشد، جونیئر کلرک منیر، جونیئر کلرک حافظ دانیال سمیت 78 پرائیویٹ افراد کو نامزد کر دیا۔ اس طرح ایک گروپ کے خلاف کارروائی کے بعد باقی دو گروپ آج بھی کھل کر کام کر رہے ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سب رجسٹرار سٹی جاوید احمد خان جن کو تین دسمبر ایڈیشنل چارج ملا وہ 6 دسمبر کو محض تین روز میں ہی 78 افراد کو بغیر کسی پوچھ گچھ کے نامزد کر دیتے ہیں جو نہ صرف سمجھ سے بالاتر بلکہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں