تازہ ترین

رجسٹری برانچ کرپشن، ملزم علی احسن کامزید3روزہ جسمانی ریمانڈمنظور

ملتان (سٹاف رپورٹر ) رجسٹری برانچ ملتان کرپشن کیس کے حوالے سے اینٹی کرپشن میں درج مقدمہ میں ملزم علی احسن کا مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور ہو گیا۔ ملتان کی عدالت نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے تفتیشی افسر کی درخواست پر زیرِ حراست ملزم علی احسن کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ابتدائی شواہد ملزم کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے اس لیے مزید تفتیش ناگزیر ہے۔ سینئر سول جج/مجسٹریٹ دفعہ 30 ملتان کے روبرو 14 جنوری 2026 کو ہونے والی سماعت کے دوران ملک واجد رضا کے رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کارندے علی احسن کو اینٹی کرپشن حکام نے پیش کیا۔ اس موقع پر تفتیشی افسر محمد اقبال ملزم کے وکیل اور اینٹی کرپشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل معمر قذافی بھی عدالت میں موجود تھے۔اینٹی کرپشن حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تفتیش کے دوران ملزم کے قبضے سے دو رجسٹرڈ سیل ڈیڈز اور مختلف جائیدادوں کے سات ریکارڈِ حقوق برآمد ہوئے ہیں جبکہ ملتان کی مختلف جائیدادوں سے متعلق چھ جی بی ڈیجیٹل ڈیٹا بھی ملا ہے جو رجسٹرار آفس کے ذریعے منتقلی کے لیے تیار تھا۔ملزم کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل محض ایک چائے لانے والا ملازم ہے اور اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ تاہم عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ابتدائی شواہد ملزم کی بیان کردہ حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتے۔عدالت کے مطابق سیل ڈیڈز، ریکارڈِ حقوق اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے باہمی تعلق کو جانچنے، ڈیٹا کے فرانزک تجزیے اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے، چنانچہ عدالت نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی درخواست منظور کرتے ہوئے تین روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو 17 جنوری 2026 کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے، جبکہ اس حکم نامے کی نقل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کو ارسال کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی۔

تحصیلدار سٹی ملک جاوید ڈیل کیلئے متحرک، کمشنر، ڈی سی، اینٹی کرپشن کو ماموں بنانے کی کوشش

ملتان ( سٹاف رپورٹر) رجسٹری برانچ کرپشن کیس میں سرکاری لاگ ان پرائیویٹ لوگوں کے ہاتھ غیر قانونی طور پر استعمال ہونے کے معاملے میں تحصیلدار سٹی ملک جاوید ڈیل کے لئے متحرک،خود کو بچانے کے لئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا شروع کردیا ،اپنے سرکاری لاگ ان کو پبلک آر او ڈی قرار دینے کی کوشش بھی شروع کردی ہے لیکن اینٹی کرپشن کے پاس ملک جاوید کا سرکاری لاگ ان پرائیویٹ طور پر استعمال ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں جس کی وجہ سے ان کے جلد قانونی گرفت میں آنے کا امکان ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اینٹی کرپشن کے گلگشت میں چھاپے کے دوران ملزم علی احسن قریشی کی گرفتاری ، 16 رجسٹریوں اور لیپ ٹاپ کی برآمدگی کے معاملے میں پکڑا جانے والا سرکاری لاگ ان تحصیلدار سٹی ملک جاوید کا تھا۔ اس حوالے سے اینٹی کرپشن کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ ملزم علی احسن پرائیویٹ مافیا کے ڈان ملک واجد رضا کے بھائی ملک احسن رضا کے لیے کام کرتا ہے اور وہ سرکاری لاگ ان غیر قانونی طور پر استعمال کر رہا تھا۔ اس معاملے پر تحصیلدار سٹی ملک جاوید نے محکمہ اینٹی کرپشن، کمشنر ملتان عامر کریم خان، ڈپٹی کمشنر ملتان و دیگر افسران کو گمراہ کرنے اور خود کو بچانے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور خود کو بچانے کی کوشش شروع کر دی ہے ، اس معاملے پر تحصیلدار سٹی ملک جاوید کا مؤقف سامنے آیا ہے کہ ملزم علی احسن کے زیر استعمال سرکاری لاگ ان پبلک آراوو ڈی تھا جو کہ حقائق کے سراسر منافی ہے کیونکہ چھاپے کے دوران برآمد ہونے والا سرکاری لاگ ان تحصیلدار سٹی ملک جاوید کا ہے جو محکمہ اینٹی کرپشن نے قبضے میں لے کر کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی دستاویزات اور تصاویر کے مطابق موقع سے برآمد ہونے والے سرکاری لاگ ان پبلک آر او ڈی نہیں بلکہ ملک جاوید کا اصلی سرکاری لاگ ان ہے جسے مذکورہ تحصیلدار جھٹلانے اور حقائق چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں اس سلسلے میں اینٹی کرپشن ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تحصیلدار ملک جاوید کا ہی سرکاری لاگ ان پرائیویٹ طور پر استعمال ہو رہا تھا ۔ باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملک جاوید تحصیلدار سٹی تگڑی ڈیل کر کے خود کو اینٹی کرپشن کے شکنجے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جس کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں