جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ جعل سازی، بعض متعلقہ سٹاف نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو مکمل ثبوتوں کے ساتھ اطلاعات پہنچادیں، تحقیقات شروع
ملتان کینٹ میں تعینات سب رجسٹرار عابد شبیر لغاری نے سرکاری لاگ ان پرائیویٹ لوگوں کو دے رکھے ،یہی پریکٹس جنوبی پنجاب کے کئی سب رجسٹرار کررہے
ساہیوال میں ادا شدہ فیس ملتان کی رجسٹریوں میں استعمال، فیسیں ہضم ، ڈیرہ اور خانیوال میں بھی یہی صورتحال،لیہ میں خاتون ڈپٹی کمشنرکی تعیناتی پرعملہ محتاط
شور کوٹ ،بھوانہ، چوک سرور ، خیر پور ٹامیوالی ، حاصل پور ، فورٹ عباس میں بھی دونمبریاں، ڈپٹی کمشنر ملتان کو موصول شکایات میں لیاقت ، وقار، انصر، احسن سمیت7 نام شامل
ملتان( سٹاف رپورٹر) پنجاب بھر میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور تمام اضلاع و تحصیلوں میں قائم رجسٹری برانچوں میں وی پی این پر فرضی کھاتے اور دیگر شہروں میں ادا کی گئی فیسوں کو کئی کئی جگہ اندراج کرکے حکومت پنجاب کو ریونیوکی مد میں اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے اور یہ جعلسازی سب سے زیادہ جنوبی پنجاب میں ہورہی ہے۔ اس بارے بعض متعلقہ سٹاف نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو مکمل ثبوتوں کے ساتھ اطلاعات پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے تحقیقات شروع کرادی ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ملتان کینٹ میں تعینات سب رجسٹرار عابد شبیر لغاری نے تو سرکاری لاگ ان پرائیویٹ لوگوں کو دے رکھے ہیں اور یہی پریکٹس جنوبی پنجاب کے کئی سب رجسٹرار کررہے ہیں جس سے حکومت پنجاب کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ۔توجہ طلب امر یہ ہے کہ وی پی این کا لاگ ان صرف اور صرف سرکاری عمارت میں گزیٹڈ آفیسر ہی اسے ڈی کوڈ کرکے استعمال کرسکتا ہے مگر یہ سہولت بہت سے ٹائوٹ حضرات کو دی جاچکی ہے۔ ملتان کے بعض شہریوں نے بورڈ آف ریونیوکے متعلقہ حکام اور ممبر ٹیکس کو بھی مصدقہ معلومات بھجوادی ہیں کہ ملتان میں پرائیویٹ افراد ریونیو افسران کا سرکاری اکائونٹ استعمال کررہے ہیں۔ مصدمہ ذرائق نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے وی پی این کے ذریعے ساہیوال میں ادا شدہ ریونیو فیس کو ملتان کی رجسٹریوں میں استعمال کرکے رجسٹریاں کروانے والوں کی طرف سے ادا کردہ تمام تر فیسیں ہضم کرلی گئیں۔ اس قسم کی اطلاعات ڈیرہ غازیخان اور خانیوال میں بھی ہیں مگر مصدقہ ذرائع کے مطابق اس جعلسازی میں پہلے نمبر پر ضلع لیہ تھا مگر حال ہی میں وہاں ایک خاتون ڈپٹی کمشنر تعینات ہوئی ہیں تو عملہ بہت زیادہ محتاط ہوگیا ہے۔ اس قسم کی شکایات شور کوٹ ،بھوانہ، چوک سرور شہید، خیر پور ٹامیوالی ، حاصل پور اور فورٹ عباس سے بھی موصول ہورہی ہیں۔ حیران کن امر ہے کہ ریونیو نظام کمپیوٹرائزڈ ہونے کے باوجود جعلساز افسران اور سرکاری وثیقہ نویس حضرات کی ملی بھگت سے نت نئے راستے نکالے جارہے ہیں۔ ملتان کینٹ میں تعینات سب رجسٹرار عابد شبیر لغاری نے تو کھلے عام لاگ ان کی سہولت ٹائوٹوں کو دے رکھی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملتان میں تعینات والے نئے ڈپٹی کمشنر کو سب رجسٹرار کینٹ کے آفس سے مسلسل رابطے والے ٹائوٹ حضرات کی ایک فہرست میں فراہم کی گئی ہے جس پر انہوں نے اے ڈی سی جی کو کارروائی کیلئے بھجوا دی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ملتان کو جو شکایات دی گئی ہیں ان میں لیاقت ، وقار، انصر، احسن سمیت سات نام شامل ہیں۔ کرپشن کے ثبوت اب اے ڈی سی جی کے پاس ہیں اور آئندہ چند روز میں معلوم ہوجائے گا کہ اس
منظم جعلسازی کو ملتان کی حد تک کیسے روکا جائے گا۔







