ملتان ( سٹاف رپورٹر) رجسٹری برانچ ملتان میں چہرے بدل گئے لیکن نظام نہیں بدلا، کمشنر ملتان عامر کریم خان کے اچانک چھاپے کے بعد تعینات ہونے والے سب رجسٹرار سٹی جاوید احمد خان بھی سابق رجسٹراروں کے رنگ میں رنگے گئے، عوام کو انتظار کی سولی پر چڑھا کر ٹاوٹوں کے ذریعے فی رجسٹری ہزاروں روپے رشوت وصول کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے کرپشن کے خلاف کمشنر ملتان کے ایکشن کے ثمرات زائل ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رجسٹری برانچ آفس صبح سوا 10 بجے کھولا جاتا ہے اور چار بجے سے قبل ہی بند کر دیا جاتا ہے اس دوران عوام کی بڑی تعداد رجسٹریوں کے بیانات کے لیے آفس میں ہجوم کی صورت میں موجود ہوتی ہے اور ان کو رجسٹری کے بیانات قلم بند کروانے میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بزرگ، ضعیف مریضوں اور خواتین کو شدید مسائل کاسامنا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ شہریوںکی رجسٹریوں پر بلا جواز اعتراضات لگا کر ان سے فرنٹ مینوں جونیئر کلرک گوہر شاہ ، ریکارڈ کیپر افضل شیخ، اور کلرک ملک فرقان کے ذریعے فی رجسٹری ہزاروں روپے وصول کرکے بیانات کیے جاتے ہیں جو کہ رجسٹری برانچ میں کرپشن ختم کرنے کی بھرپور کارروائی پر سوالیہ نشان ہے۔ کمشنر ملتان نے رجسٹری برانچ میں رش ختم کرنے کے لیے کیو سسٹم متعارف کروایا لیکن اس کا بھی عوام کو فائدہ نہیں دیا جا رہا، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ چونکہ آفس کا ٹائم 10 بجے سے چار بجے تک ہے اور اس دوران رش کی وجہ سے کیو سسٹم کو فالو ہی نہیں کیا جا رہا اور جاوید خان سب رجسٹرار اپنی مرضی سے آفس آتے ہیں اور دو تین گھنٹے بعد ایک بجے اپنا آفس بند کرکے چلے جاتے ہیں جس سے کئی معاملات زیر التوا رہ جاتے ہیں جس کے باعث عوام آج بھی دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کی جانب سے اس حوالے سے سروے کے دوران روزنامہ قوم کو رجسٹری برانچ کی ویڈیوز بھی موصول ہوئی ہیں جس میں عوام کا بے تحاشا رش دیکھا جا سکتا ہے کہ عوام بھیڑ بکریوں کی طرح رجسٹری برانچ میں اپنے کاموں کے لیے انتظار کی سولی پر لٹکتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سب رجسٹرار جاوید احمد خان نے جن 78 افراد کو محض دو روز میں ایف آئی آر میں نامزد کرایا تھا ان میں سے کچھ لوگوں کے نام گوہر شاہ نے دو سے تین لاکھ روپے لیکر اینٹی کرپشن سے نام نکلوانے کے وعدے بھی کر رکھے ہیں مگر ابھی تک انہیںاس حوالےسےکامیابی حاصل نہیںہوسکی، سروے کے دوران شہریوں نے کہا کہ کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر کو یہ ریکارڈ بھی طلب کرنا چاہیے کہ جب سے جاوید احمد خان سب رجسٹرار تعینات ہوئے ہیں انہوں نے اب تک کتنی رجسٹریاں و انتقال پاس کرکے سائلین کی داد رسی کی ہے۔







