ملتان (وقائع نگار) روزنامہ قوم کی خبر پر ایکشن، بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے عارضی طور پر تعینات رجسٹرار کو فوری طور پر رجسٹرار اور کنٹرولر کی آسامیاں مشتہر کرنے کے احکامات جاری کر دیئے، رجسٹرار نے رجسٹرار اور کنٹرولر کی آسامیوں کا اشتہار بنا کر منظوری کے لیے وائس چانسلر کو بھجوا دیا تفصیل کے مطابق بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں کنٹرولر رجسٹرار اور خزانہ دار کی اسامیاں عرصہ دراز سے خالی ہیں 2024 میں سپریم کورٹ آف پاکستان یونیورسٹیوں کو احکامات جاری کیے تھے کہ کنٹرولر امتحانات خزانہ دار اور رجسٹرار کی آسامیوں پر فوری طور پر تعیناتی کی جائے مگر زکریا یونیورسٹی ملتان نے چند روز قبل صرف خزانہ دار کی آسامی پر تعیناتی کی ابھی تک نئے تعینات ہونے والے خزانہ دار نے چارج نہیں سنبھالا ہے، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے روز نامہ قوم میں خبر شائع ہونے پر ایکشن لیتے ہوئے عارضی طور پر تعینات رجسٹرار اعجاز احمد کو احکامات جاری کیے کہ رجسٹرار اور کنٹرولر کی اسامیاں فوری طور پر مشتہر کی جائیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اعجاز احمد نے رجسٹرار اور کنٹرولر کی آسامیوں کے لیے جو اشتہار بنا کر وائس چانسلر کو بھجوایا ہے اس میں کنٹرولر اور رجسٹرار کے لیے فرسٹ ڈویژن ایم اے اور انتظامی پوسٹ کا 17 سال کا تجربہ ہونا چاہیے پاکستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں کنٹرولر اور رجسٹرار کے لیے تعلیمی قابلیت ایم اے اور 12 سال کا انتظامی تجربہ رکھا گیا ہے معلوم ہوا ہے کہ اعجاز احمد نے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں تعینات ایڈیشنل کنٹرولر محمد اقبال ایڈیشنل رجسٹرار کامران تصدق اور ایڈیشنل خزانہ دار صفدر لنگاہ رجسٹرار اور کنٹرولر کی دوڑ میں باہر نکالنے اور خود رجسٹرار بننے کے لیے رجسٹرار کا 17 سال کا تجربہ کی شرط رکھی ہے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے سٹیچو کے مطابق رجسٹرار اور کنٹرولر کے لیے تعلیمی قابلیت گریجویشن اور 10 سال کا تجربہ ہونا چاہیے واضح رہے کہ گزشتہ روز بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں جو غیر قانونی سلیکشن بورڈ منعقد کروایا گیا تھا وہ اعجاز احمد اور بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (بزوٹا) کے مابین ہونے والے معاملات پہلے سے طے تھے کہ میں سلیکشن بورڈ میں بزوٹا کے ٹیچرز کو سپورٹ کروں گا بدلے میں بزوٹا کے عہدیدار مستقل رجسٹرار بنوانے کے لیے مجھے سپورٹ کریں گے ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رجسٹرار اور کنٹرولر کے سٹیچو ابھی تک گورنر نے منظور ہی نہیں کیے ہیں۔







