راجن پور: کھاد مافیا کی ری پیکنگ، مہنگی ڈی اے پی میں سستی کھاد شامل، حکام خاموش

ڈیرہ غازی خان (کرائم سیل رپورٹ ) راجن پور میں ڈی اے پی کھاد میں’’ کین کھاد ‘‘ملا کر ری پیکنگ کرکے ملک بھر میں سپلائی کرنے کس انکشاف ہوا ہے، ڈپٹی کمشنر راجن پور سمیت متعلقہ اداروں اورافسران کی خاموشی سے مافیا کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ملاوٹ شدہ جعلی کھاد کی یہ سپلائی ملک بھر میں سالہا سال سے جاری ہے۔ کسانوں سے بھاری قیمتیں وصول کرنے والے کھاد مافیا نے پرائیویٹ گوداموں کو اپنی ملاوٹی کارروائیوں کا مرکز بنا لیا ہے۔ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ملاوٹ مافیا رات کی تاریکی میں مہنگی ڈی اے پی کھاد کی بوریاں جس کی قیمت 13 ہزار روپئے ہے، کو کھول کر ان میں سستی کین کھاد اور این پی کھادیں جن کی قیمت 3500 سے 4 ہزار روپے فی بوری ہے، کی ملاوٹ کرکے ری پیک کر رہا ہے اس طرح 17 ہزار میں دو بوریاں تیار ہوتی ہیں جن کو 26 ہزار میں اگر کنٹرول ریٹ پر فروخت کریں یہ اس کو بلیک میں 30 ہزار میں دو بوریاں فروخت کی جاتی ہیں ، اور اس غیرقانونی کام کے لیے اپنے پرائیویٹ گودام میں سیڈ کارپوریشن کی آڑ میں ری پیکنگ کی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق اس پرائیویٹ گودام میں دن کو کارپوریشن کا عملہ بیج کی پیکنگ کا کام کرتا ہے، جبکہ رات ہوتے ہی یہی جگہ کھاد مافیا کے قبضے میں چلی جاتی ہے۔ یہاں ڈی اے پی کی قیمتی بوریاں کھولی جاتی ہیں، ان میں کین اور این پی جیسی سستی کھادیں ملا کر انہیں دوبارہ اصل برانڈ کی پیکنگ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور عمران حسین رانجھا کو شہریوں کی طرف سے درخواستیں دی گئی ہیں کہ فوری طور پر اس سنگین معاملہ کو از خود نوٹس لیکر اس کھاد ڈیلر کے خلاف کاروائی کریں مگر کسی بھی درخواست پر کسی قسم کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔عوامی و سماجی حلقوں اور کسان رہنماؤں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور خفیہ اداروں کے ذریعے اس پورے نیٹ ورک کی تحقیقات کرائیں۔ ان کا کہنا ۔ اگر تحقیقات میں ری پیکنگ اور ملاوٹ کا معاملہ ثابت ہوتا ہے تو ملوث ڈیلرز، مافیا اور سیڈ کارپوریشن کے اہلکاروں کے خلاف قرار واقعی قانونی کارروائی کی جائے کیونکہ کارروائی نہ ہونے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ انتظامیہ خود اس مافیا کے ساتھ شامل ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں