راجن پور: کریانہ سٹور پر یونیفارم ڈکیتی، دکاندار محکمہ طاقت کا نشانہ، انتظامیہ خاموش

ڈیرہ غازی خان (کرائم سیل رپورٹ)راجن پور کے وسطی تجارتی علاقے کچہری چوک میں گزشتہ روز 25 مارچ کو رات تقریباً 10 بج کر 46 منٹ پر ایک مبینہ سرکاری کارروائی نے شہریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن (ایف بی آر/آئی آر) کے انسپکٹر محمد عمران ہمراہ چند نامعلوم پرائیویٹ ملازمین نے افضل کریانہ سٹور پر چھاپہ مارا اور مختلف برانڈز کی سگریٹ کی کم از کم پانچ پیٹیاں جو 2500 پیکٹس پر مشتمل تھیں اور جن کی تخمینہ مالیت 5 لاکھ روپے بنتی ہے، اپنے ساتھ لے گئیں۔ کارروائی کے دوران انسپکٹر نے دوکاندار کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں جلد ہی سامان کی رسید فراہم کر دی جائے گی، لیکن یہ وعدہ محض دھوکہ ثابت ہوا۔ یہ معاملہ اس وقت مزید متنازع ہو گیا جب 27 مارچ کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن راجن پور کے افسر مشتاق احمد شاہد کی جانب سے ایک رسید جاری کی گئی جس میں محض 163 پیکٹس کا اندراج کیا گیا تھا، جبکہ ضبط شدہ سامان کی اصل مقدار 2500 پیکٹس تھی، اور یوں واضح ہو گیا کہ سرکاری کارروائی کے نام پر دراصل ایک منصوبہ بند ڈکیتی کی گئی۔ دوکاندار عرفان افضل نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پورے شہر میں سب سے کم نرخوں پر کریانہ کی اشیاء فروخت کرتے ہیں، روپیہ روپیہ جوڑ کر بچت کرتے ہیں، اور سرکاری تمام قوانین کی بھرپور پاسداری کرتے ہیں، پھر ان کے ساتھ یہ زیادتی کیوں ہوئی؟ یہ سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں اٹھتا ہے۔ جب دوکاندار نے افسر مشتاق احمد شاہد سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر اپنا ہاتھ دھو لیا کہ وہ ڈپٹی کمشنر راجن پور عمران حسین رانجھا کی زیرِ نگرانی کام کر رہے ہیں اور دوکاندار کی شکایت پر تحقیقات کر کے ازالہ کریں گے۔ لیکن یہاں سب سے اہم اور تلخ سوال یہ ہے کہ جب خود ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں یہ کارروائی عمل میں آئی تو ان کی خاموشی آخر کیوں؟ کیا یہ خاموشی اس بات کی علامت نہیں کہ سرکاری افسران نے نجی ملازمین کو ساتھ ملا کر کوئی باقاعدہ “سرکاری ڈکیتی” کا منصوبہ بنایا اور اعلیٰ حکام اس پر پردہ ڈال رہے ہیں؟ روزنامہ قوم ملتان کو موصول ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ انسپکٹر محمد عمران اور ان کے ساتھی بغیر کسی خوف کے سامان اٹھا کر لے جاتے ہیں، اور یہ فوٹیج اس پوری واردات کی اصل تصویر پیش کرتی ہے جس میں سرکاری افسران نے نجی افراد کو شامل کرکے نہ صرف قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا بلکہ ایک عام شہری کے کاروبار کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ واقعہ محض ایک کارروائی نہیں بلکہ ریاستی مشینری کے اندر بڑھتی ہوئی بے راہ روی کی عکاسی کرتا ہے اور جب سرکاری افسران خود قانون کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کریں اور اعلیٰ حکام خاموش تماشائی بنے رہیں تو عوام کا قانونی نظام سے اعتماد اٹھنا یقینی ہے۔ ڈپٹی کمشنر عمران حسین رانجھا کی خاموشی درحقیقت اس پوری واردات کو ایک باقاعدہ منظوری فراہم کرتی ہے، اور جب تک ان اعلیٰ حکام کو جوابدہ نہیں بنایا جاتا، ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک عام دکاندار جس نے اپنی محنت اور جائز ذرائع سے کاروبار کیا، اسے سرکاری افسران کے ہاتھوں اپنا سب کچھ لوٹتے دیکھنا پڑا، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ قانون کتنی جلد اپنا کام کرتا ہے یا پھر اس معاملے میں بھی سرپرستی کے اندھیروں میں یہ واردات دب کر رہ جائے گی۔ تاحال ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان یا کارروائی سامنے نہیں آئی، جو اپنے آپ میں ایک سنگین سوالیہ نشان ہے اور اس پوری واردات کو سرکاری سطح پر کی گئی ایک منظم ڈکیتی ثابت کرتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں