ڈیرہ غازی خان ( کرائم سیل ) راجن پور کے معروف کھاد ڈیلر خواجہ نوید ایاز نے جعلی کھاد بنانے اور ملک بھر میں سپلائی کیے جانے کے حوالے سے 10 مارچ 2026 ء کو روزنامہ قوم میں شائع ہونے والی تین کالمی خبرجس میں
ملاوٹ مافیا سے منسلک کسی بھی شخص کا نام نہیں تھا اور نہ ہی کسی کمپنی کا نام تھا، نہ ہی یہ لکھا گیا تھا کہ یہ ملاوٹ ضلع راجن پور کے کس مقام پر ہو رہی ہے مگر اس خبر کے شائع ہونے پر گزشتہ سے پیوستہ روز بدھ 11 مارچ کو سہ پہر 4 بجکر 07 منٹ پر راجن پور کے معروف کھاد ڈیلر خواجہ نوید ایاز نے موبائل نمبر 03017414786 سے روزنامہ قوم کے ڈیرہ غازی خان کرائم سیل کے انچارج امجد حسین ملک کو واٹس ایپ پر کال کرکے دھمکی آمیز لہجہ میں کہا کہ آپ سے جو ہوسکتا ہے آپ کر لیں اور اگر آپ میں ہمت ہے تو حکومت سے کارروائی کروا کر دکھائیں تب میں آپ کو مانوں گا پھر اگر پیٹ میں درد ہے تو میرے پاس آجائیں میں پھکی دے دوں گا۔ یہاں سے سب پھکی لیکر جاتے ہیں۔
قارئین کرام، اب روزنامہ قوم کی 10مارچ کوشائع ہونے والی اس خبر کا مکمل متن ملاحظہ ہو جو حسب ذیل ہے اور جس پر خواجہ نوید ایاز سیخ پا ہوئے۔ اس خبر میں نہ ان کا نام ہے نہ ہی انکی کمپنی کا نام ہے۔
خبر کا متن یوں ہے ۔
’’ڈیرہ غازی خان ( کرائم سیل رپورٹ ) راجن پور میں ڈی اے پی کھاد میں’’کین کھاد‘‘ملا کر ری پیکنگ کرکے ملک بھر میں سپلائی کرنے کا انکشاف ہوا ہے، ڈپٹی کمشنر راجن پور سمیت متعلقہ اداروں اور افسران کی خاموشی سے مافیا کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ملاوٹ شدہ جعلی کھاد کی یہ سپلائی ملک بھر میں سالہا سال سے جاری ہے۔ کسانوں سے بھاری قیمتیں وصول کرنے والے کھاد مافیا نے پرائیویٹ گوداموں کو اپنی ملاوٹی کارروائیوں کا مرکز بنا لیا ہے۔ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ملاوٹ مافیا رات کی تاریکی میں مہنگی ڈی اے پی کھاد کی بوریاں جس کی قیمت 13 ہزار روپے ہے، کو کھول کر ان میں سستی کین کھاد اور این پی کھادیں جن کی قیمت 3500 سے 4 ہزار روپے فی بوری ہے، کی ملاوٹ کرکے ری پیک کر رہا ہے۔ اس طرح 17 ہزار میں دو بوریاں تیار ہوتی ہیں جن کو 26 ہزار میں اگر کنٹرول ریٹ پر فروخت کریں یہ اس کو بلیک میں 30 ہزار میں دو بوریاں فروخت کی جاتی ہیں اور اس غیرقانونی کام کے لیے اپنے پرائیویٹ گودام میں سیڈ کارپوریشن کی آڑ میں ری پیکنگ کی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق اس پرائیویٹ گودام میں دن کو کارپوریشن کا عملہ بیج کی پیکنگ کا کام کرتا ہےجبکہ رات ہوتے ہی یہی جگہ کھاد مافیا کے قبضے میں چلی جاتی ہے۔ یہاں ڈی اے پی کی قیمتی بوریاں کھولی جاتی ہیں، ان میں کین اور این پی جیسی سستی کھادیں ملا کر انہیں دوبارہ اصل برانڈ کی پیکنگ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور عمران حسین رانجھا کو شہریوں کی طرف سے درخواستیں دی گئی ہیں کہ فوری طور پر اس سنگین معاملہ کااز خود نوٹس لیکر کھاد ڈیلر کے خلاف کارروائی کریں مگر کسی بھی درخواست پر کسی قسم کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔عوامی و سماجی حلقوں اور کسان رہنماؤں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور خفیہ اداروں کے ذریعے اس پورے نیٹ ورک کی تحقیقات کرائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں ری پیکنگ اور ملاوٹ کا معاملہ ثابت ہوتا ہے تو ملوث ڈیلرز، مافیا اور سیڈ کارپوریشن کے اہلکاروں کے خلاف قرار واقعی قانونی کارروائی کی جائے کیونکہ کارروائی نہ ہونے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ انتظامیہ خود اس مافیا کے ساتھ شامل ہے‘‘۔
اب جبکہ خواجہ نوید ایاز نے خود ہی اس خبر کو اپنے کھاتے میں ڈال کر ذمہ داری قبول کر لی ہے تو اس خبر کی مزید تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ جنوبی پنجاب میں جعلی کھادوں کا اربوں روپے کا نیٹ ورک یہی موصوف چلا رہے ہیں اور ان کا ملاوٹ شدہ کھربوں کا مال پاکستان کے کونے کونے میں سپلائی ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے آبائی شہر کوٹ مٹھن نئی آبادی پانچ مرلہ سکیم میں بہت سے غریب لوگوں کو سود میں جکڑا پھر ان میں سے کچھ لوگوں کو ادائیگیاں کرکے اور کچھ لوگوں سے سود کی مد میں پراپرٹیاں اپنے نام لکھوا کر ایک کھاد گودام بنا رکھا ہے۔جس میں کئی ٹرالر رات بھر ملاوٹ شدہ مال کی لوڈنگ و ان لوڈنگ کرتے رہتے ہیں ۔اس کے علاوہ بھی راجن پور میں موصوف کے تین گودام ہیں جن میں دو رجسٹرڈ ہیں اور ایک غیر رجسٹرڈ سٹور جو کہ ایک سابقہ کاٹن فیکٹری کو کرایہ پر لیکر بنا رکھا ہے۔ یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ ضلع راجن پو ر میں جہاں جعلی کھاد کا سب سے بڑا نیٹ ورک خواجہ نوید ایاز چلا کر ملک بھر کے کسانوں کو لوٹ رہے ہیں وہیں پر ضلع راجن پور کے سب سے مخیر شخص بھی شمار کیے جاتے ہیں اور ہر آفیسر کی آنکھ کا تارا بھی اس لیے ہیں کہ انہوں نے ضلعی معاملات کے لیے سہولت کاری کر رکھی ہے اور یہی وجہ سے کہ کسی بھی سرکاری ادارے کے افسر میں اتنی جرات نہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کر سکے کہ وہ سہولت کاری لیتے ہیں تو سہولت کاری دیتے بھی ہیں اور یہ دو طرفہ تعاون سالہا سال سے جاری ہے ۔
#dcrajanpur #dcdgkhan #govtofpunjab #maryamnawaz







