ملتان(سٹاف رپورٹر)معروف قانون دان شیخ محمد فہیم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ تھانہ حرم گیٹ کے علاقے میں سرعام فائرنگ سے عورت کے زخمی ہونے اور خوف کی فضا قائم ہونے کے واقعہ میں ایس ایچ او تھانہ حرم گیٹ کی مدعیت میں درج مقدمہ نمبر13/25 میں جو دفعات لگائی گئی ہیںاور جس قسم کی درخواست میںمضمون بنایا گیا ہے سرعام پھیلائی جانے والی دہشت کہ جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے میں 7ATA نہ لگا کر پولیس نے مقدمہ مکمل طور پر جہاں اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے وہاں صلح کا اختیار بھی مضروب عورت حاجرہ بی بی کی بجائے اپنے پاس رکھ لیا ہے ۔7ATA لگنے کے بعد مقدمہ میں صلح کا آپشن پولیس کے پاس نہیں رہتا اور پھر مدعی کیلئے صلح بھی قدرے مشکل ہوجاتی ہے ۔ اس ایف آئی آر کے مضمون کے مطابق جو دفعات لگائی گئی ہیں اگر زخمی ہونے والی خاتون کا اس کا خاوند چاہیں تو علیحدہ سے درخواست دے سکتے ہیں کیونکہ پولیس چاہتی تو مضروب کے خاوند کو موقع پر ظاہر کرسکتی تھی مگر ایف آئی آر میں حاجرہ بی بی کے خاوند کو موقع پر نہ ظاہر کرکے انہیں تقریباً فارغ کردیا گیا ہے ۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں 12 گولیوں کا چلنا ظاہر ہوتا ہے جوکہ صریحاً دہشت گردی اور خوف پھیلانے کے زمرے میں آتا ہے پولیس نصف سے زائد مقدمات میں فرضی گواہ ڈالتی ہے تو اس کیس میں خود سے گواہ ڈالنا کون سا مشکل تھا مگر پولیس تھانہ حرم گیٹ کے ایس ایچ او محمد اسماعیل نے سارے کیس کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا ہے جس سے یہ تاثر بھی لیا جاسکتا ہے کہ پولیس اس کریمنل گروپ کو دبائو میں لاکر علاقے میں امن و امان کی بحالی چاہتی ہے ۔






