دو ہزار دس سیلاب بحالی منصوبہ، اے ڈی بی رپورٹ میں شفافیت، پائیداری اور نگرانی پر سوال

ملتان(عامر حسینی ) ایشیائی ترقیاتی بینک( اے ڈی بی) کے ایک آزادانہ جائزے نے پاکستان میں سیلاب کے بعد شروع کیے گئے قومی شاہراہوں کی بحالی کے ایک بڑے منصوبے پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیںجب یہ انکشاف ہوا کہ ابتدائی طور پر منصوبے میں شامل 12 پل منسوخ کر دیئے گئے اور انہیں سرکاری فنڈز سے بعد میں تعمیر کیا گیا، نہ کہ بینک کی جانب سے دی گئی قرض رقم سے۔یہ انکشاف بینک کے انڈیپنڈنٹ ایویلیوایشن ڈیپارٹمنٹ آئی آئی ڈی کی جانب سے جاری کردہ ویلیڈیشن رپورٹ میں کیا گیا، جس نے “پاکستان: پوسٹ فلڈ نیشنل ہائی ویز ریہیبیلیٹیشن پروجیکٹ” کو “کم تر کامیاب” قرار دیاحالانکہ یہ منصوبہ اپنی وسعت اور اہمیت کے لحاظ سے نمایاں تھا۔2010 کے تباہ کن سیلاب کے بعد شروع کیے گئے اس منصوبے پر 218.8 ملین ڈالر کی لاگت آئی، جس میں سے 196.9 ملین ڈالر کا قرض اے ڈی بی نے فراہم کیا۔ اس کا مقصد خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں 201 کلومیٹر قومی شاہراہوں اور 21 پلوں کی مرمت کے ذریعے ٹرانسپورٹ نظام کی بحالی اور بہتری تھا۔رپورٹ کے مطابق منصوبہ اگرچہ اقتصادی لحاظ سے مؤثر تھا لیکن اس کی افادیت اور پائیداری کے حوالے سے تشویش پائی گئی۔ سب سے نمایاں مسئلہ 12 پلوں کی منسوخی کا تھا جنہیں منصوبے کے دائرہ کار سے ہٹا کر بعد ازاں حکومتی فنڈ سے مکمل کیا گیا۔ یہ تبدیلی اے ڈی بی کی مالی معاونت سے مکمل شدہ تمام کاموں کے دعوے کو کمزور کرتی ہےاور رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ محفوظ اور بہتر ٹریفک کی روانی جیسے کلیدی اہداف کی تکمیل کے ثبوت ناکافی ہیں۔ترقیاتی منصوبوں میں طے شدہ اہداف نہ صرف تکنیکی بلکہ قانونی وعدے بھی ہوتے ہیں۔ اس قسم کی تبدیلیوں سے شفافیت، نگرانی اور مالی جوابدہی پر سوال اٹھتے ہیں۔ رپورٹ میں کرپشن کا براہ راست الزام تو نہیں لگایا گیا، لیکن منصوبے کے نفاذ میں کمزور نگرانی اور جزوی نتائج کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ پلوں کی تعمیر کے لیے بعد میں حکومت نے خود مالی وسائل استعمال کیے، جس سے نہ صرف قرض کی واپسی کا بوجھ برقرار رہا بلکہ اضافی سرکاری اخراجات بھی کرنا پڑے۔ ماہرین اسے “دوہرا مالی بوجھ” قرار دیتے ہیں، جو کہ کم سود یا رعایتی قرضوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو زائل کر دیتا ہے۔رپورٹ میں ملک کے سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے دستیاب فنڈنگ کے تسلسل پر بھی سوالات اٹھائے گئے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں بار بار سیلاب کا خطرہ رہتا ہے۔ بغیر پائیدار دیکھ بھال کے، بحالی کے منصوبے جلد ناکارہ ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ 2026 میں منصوبے کی کارکردگی پر مکمل جائزہ رپورٹ تیار کی جائےکیونکہ منصوبے کی تکمیل کو دو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور غیر ملکی فنڈنگ کے استعمال میں شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جب تک مکمل جائزہ سامنے نہیں آتا، منسوخ شدہ پل ایک ادھورے منصوبے اور غیر واضح احتساب کی علامت بنے رہیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں