دوکوٹہ (نامہ نگار، نمائندہ خصوصی) دوکوٹہ میں غیرت کے نام پر قتل کی لرزرہ خیز واردات، 18 سالہ نوجوان کو چھری سے ذبح کر کے نعش کے ٹکڑے کر دیئے ، سر تن سے جدا کر کے نعش کو آگ لگا دی گئی، پولیس تھانہ مترو نے مقدمہ درج کر کے ملزم اکرم پٹھان کو گرفتار کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا۔ تفصیل کے مطابق نواحی موضع رتھ سعی کے رہائشی 18 سالہ نوجوان زین علی ولد عبدالرشید کو غیرت کے نام پر چھری سے ذبح کر کے اس کا سر تن سے جدا کر کے اس کی نعش کے ٹکڑے کر دیئے گئے اور اس کی نعش کو کھیتوں میں پھینک دیا ۔سفاک قاتل نے ٹکڑوں میں تقسیم نعش کی بے حرمتی کرتے ہوئے پٹرول چھڑک کر نعش کو آگ لگا دی ۔وجہ عناد یہ ہے کہ ملزم کو شبہ تھا کہ مقتول زین علی کے اس کی بیوی (ب) سے ناجائز تعلقات ہیں۔ مقتول کے بھائی محمد سہیل کی مدعیت میں پولیس تھانہ مترو نے مقدمہ نمبر 41/25 درج کر کے ملزم اکرم پٹھان کو گرفتار کر لیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا جبکہ قتل کی اس لرزرہ خیز واردات میں ایک ہی ملزم کو نامزد کیا گیا ہے ۔شہریوں نے سوال اٹھایاہے کہ کیا اکیلا آدمی کسی دوسرے آدمی کو ذبح کر کے اس طرح کی لرزرہ خیز واردات کر سکتا ہے ؟ اور اسی طرح ایف آئی آر میں ایک ہی 302 کی دفعہ لگائی گئی ہے جس طرح مقتول کی نعش کو ٹکڑے کر کے اس کی نعش کے ٹکڑوں کو آگ لگائی گئی ہے کیا اس وقوعہ میں دہشتگردی کی دفعہ نہیں لگتی تھی ؟ اس لرزرہ خیز قتل کی واردات پر علاقہ بھر میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔
پولیس تھانہ مترو کے ایس ایچ او چوہدری اشرف ظہورنےکہاکہ تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے تفتیش کر رہے ہیں اور چند ایک اہم معلومات کی بنا پر قابل ذکر پیش رفت بھی ہوئی ہے جلد اصل حقائق معلوم کر لیں گے اور قاتل قانون کی گرفت میں ہوں گے۔






