دسمبر کلوزنگ یا کمیشن گیم؟ خواتین یونیورسٹی ملتان میں تنخواہ لیٹ، ملازمین کے وی سی کو کوسنے

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی متنازع اور غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے مبینہ کماؤ پوت اور فرنٹ مین محمد شفیق کے مشورے پر یونیورسٹی کے ملازمین کی دسمبر کی تنخواہوں کے معاملے میں ایسا متنازع فیصلہ کیا جس نے ادارے کے سینکڑوں ملازمین کو شدید مالی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف وہ 20 فیصد ملازمین جو سرکاری نیشنل بینک کے ذریعے تنخواہیں وصول کرتے ہیںانہیں 31 دسمبر کو تنخواہیں بھجوا دی گئیں اور نئی تعینات ہونے والی خزانچی ڈاکٹر طاہرہ یونس نے بھی سیٹ کی خوشی میں پرانی تاریخ میں انکریمنٹس کٹوتی والی تنخواہوں پر دستخط کیے تاکہ توہین عدالت سے بچا جا سکےجبکہ دیگر بینکوں کے ذریعے تنخواہیں لینے والے 80 فیصد ملازمین کو یکم جنوری کو بینک ہالیڈے کی وجہ سے تنخواہیں ادا نہ کی جا سکیں۔ حالانکہ فنانس ڈیپارٹمنٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اگر یکم تاریخ کو چھٹی ہو تو چھٹی سے ایک دن پہلے تنخواہیں بھیجنا ضروری ہے اور لیٹ تنخواہیں بھیجنا قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اس اقدام کو دسمبر کلوزنگ کے موقع پر نجی بینکوں کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچانے اور مبینہ طور پر’’انڈر دی ٹیبل‘‘ ذاتی فوائد سمیٹنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ذاتی مفادات اور مبینہ مالی جوڑ توڑ نے خواتین یونیورسٹی ملتان کو ایک بار پھر بدانتظامی اور کرپشن کی علامت بنا دیا ہے۔ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی جیسے بنیادی حق سے محرومی کے باعث درجنوں ملازمین اپنے افسران، عزیز و اقارب اور دوستوں سے ادھار لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ متاثرہ ملازمین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسی وائس چانسلر جو خود کو قانون اور قواعد سے بالاتر سمجھتی ہو، اس سے تعلیمی ادارے کی بہتری کی توقع رکھنا محض خام خیالی ہے۔ ان کے بقول ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے دور میں فیصلے ادارے کے مفاد کے بجائے مخصوص افراد اور ذاتی حلقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، تنخواہوں میں تاخیر کے اس مبینہ کھیل کی شفاف تحقیقات کرائیں اور خواتین یونیورسٹی ملتان کو ایک متنازع وائس چانسلر کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے قانون کے مطابق فیصلہ کریںتاکہ ملازمین کو مزید ذہنی اور مالی اذیت سے بچایا جا سکے۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے اپنے کماؤ پوت اور فرنٹ مین ایڈمن افیسر محمد شفیق کے ساتھ مل کر گرینڈ گالا، سیلاب فنڈز اور کانفرنسز کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی مبینہ سر پرستی سے غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تاحال ملازمین کے لیے درد سر بن چکی ہیں۔مبینہ طور پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ہونے والی Writ of Quo Warranto میں کوئی ایکشن نہ لے کر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں