دبنگ ایڈیشنل آئی جی کامران خان کو لاعلم رکھنے کیلئے سیکرٹریٹ میں ڈی پی اوز کے 2 سہولتکار

ملتان(سٹاف رپورٹر)جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں تعینات ضلعی پولیس افسران اور ایس ڈی پی اوز نے ملتان میں قائم کیے گئے ایڈیشنل آئی جی آفس کو فعالیت سے روکنے اور معلومات کی رسائی سے ایڈیشنل آئی جی سیکرٹریٹ کو دور رکھنے کے لئے اس آفس میں تعینات دو پولیس افسران سے معاملات طے کر رکھے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی آفس میں تعینات ڈی ایس پی جاوید اختر اور پی ایس او ارشاد ہر معاملے پر متعلقہ افسران کو نہ صرف اطلاع کر دیتے ہیں بلکہ ایڈیشنل آئی جی کامران خان کو حقائق کے منافی بریفنگ دے کر متعدد فیلڈ افسران کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان جو کہ بہت ہی طیب شہرت کے حامل ہیں اور پولیس کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں منفرد شہرت رکھتے ہیں کے علم میں جب کوئی معاملہ آتا ہے تو وہ نہ صرف رپورٹ طلب کرتے ہیں بلکہ معاملے کی خود نگرانی کرتے ہوئے ہفتہ وار رپورٹ بھی لیتے ہیں اور انہوں نے بہت سی چیزیں اپنے کمپیوٹر اور موبائل سسٹم میں محفوظ رکھی ہوتی ہیں ۔چند ہفتے قبل رحیم یار خان پولیس کے دو بدنام سب انسپکٹرز سیف اللہ ملہی اور نوید نواز واہلہ کے کچے کے ڈاکوؤں سے روابط ،کروڑوں کی جائیدادیں بنانے اور اغوا برائے تاوان کے مغویوں کے ورثا اور ڈاکوؤں کے درمیان ڈیل کرانے کے الزامات ثابت ہونے کے بعد ڈی پی او رحیم یار خان رضوان عمر گوندل کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ان منظور نظر تھانے داروں کو لائن حاضر کرنا پڑا مگر کاغذات میں انہیں لائن حاضر ظاہر کرکے انہیں تھانوں میں کمزور اور ڈمی ایس ایچ او تعینات کر کے غیر اعلانیہ اختیارات دے رکھے تھے جس کی رپورٹ آر پی او بہاولپور کو بھی ہوئی مگر انہوں نے بھی ایکشن نہ لیا تو رحیم یار خان کے عوام کی طرف سے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کو اس صورتحال سے نہ صرف آگاہ کیا گیا بلکہ اس حوالے سے روزنامہ قوم میں شائع شدہ خبروں کے تراشے بھی بھجوائے جس پر ایڈیشنل آئی جی نے فوری طور پر احکامات جاری کرتے ہوئے نوید نواز واہلہ اور سیف اللہ ملہی کو 24 گھنٹے کے اندر اندر ضلع رحیم یار خان چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سیکرٹیریٹ ملتان ہی میں روزانہ حاضری دینے کا حکم دیتے ہوئے انہیں ملتان ہی میں پابند کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ ڈی پی او رحیم یار خان رضوان عمر گوندل بھی ڈی ایس پی جاوید اختر اور پی ایس او ارشاد سے سہولت کاری لیتے تھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں