دار و رسن کی آزمائش

پاکستان میں عام آدمی کو جلدی اور میرٹ پر انصاف کی فراہمی کا خواب ہمیشہ خواب ہی رہا ہے۔ نئے چیف جسٹس کے آنے پر پاکستان کی سول سوسائٹی کے ایک حصّے نے اس خواب کی تعبیر جلد شرمندہ تعبیر ہونے کی نوید سنا رکھی ہے اور ابھی تک چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے اپنی طرف نظریں لگائے لوگوں کو مایوس نہیں کیا ہے۔
گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان نے فیض آباد عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ (فوجی آمر) جنرل ضیا(ع) الحق کو ‘سابق صدر پاکستان کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور آئیندہ اسے سابق صدر نہ لکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 سال سے اشرافیہ کا ملک پر قبضہ ہے ، قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سزا ملے گی تب ہی لوگ سبق سکھیں گے۔
سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ میں تعینات جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف ایک ریفرنس کی منطوری دے چکی ہے۔
دو روز قبل ایک اور اقدام سامنے آیا ہے- سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعینات جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف دائر ایک ریفرنس میں شوکاز نوٹس جاری کیا ہے جو ایڈوکیٹ راجا مقصود حسین نے دائر کررکھا ہے۔
مدعی وکیل کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی بطور ایڈمنسٹریٹو جج کے اپنے رشتے داروں اور دوستوں کے مقدمات کی سماعت کے لیے بنچ کا انتخاب غیرمنصفانہ طیقے سے کررہے ہیں- اس ریفرنس میں سب سے سنگین ترین انکشاف یہ تھا کہ الزام علیہ جسٹس راول ڈیم راولپنڈی میں غیرقانونی کشتی رانی کے آپریٹر مالکان کو غیرقانونی تحفظ فراہم کررہے ہیں- اور ان کی وجہ سے متعلقہ ادارے غیرقانونی کشتی رانی کا بزنس چلانے والوں کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں- ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ جس اے کیو ایسوسی ایٹس لا فرم سے تعلق رکھنے والے وکلا کو ناجائز حمایت دیتے ہیں جو کہ ان کا اپنی فرم تھی جہاں جج بننے سے پہلے وہ پریکٹس کرتے رہے۔ ایڈوکیٹ راجا مقصود نے الزام لگایا ہے کہ الزام علیہ جسٹس محسن اختر کیانی کی ملک و بیرون ملک متعدد بے نامی جائیدادیں ہیں- انھوں نے پاکستان میں موجود 15 جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ جسٹس محسن اختر کیانی کی ہیں جن کی ملکیت اربوں روپے بنتی ہے۔ جن میں 8 پلاٹ، 9 تعمیر شدہ مکان اور اپارٹمنٹس ہیں – جبکہ اسلام آباد کے سیکٹر-ایف 6 میں ایک بے نامی جائیداد کا مالک بھی بتایا گیا ہے جس کی مالیت 2 ارب روپے بتائی گئی ہے۔
اس ریفرنس میں ایک ایسے ناقابل تردید رجحان کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو آج کل ہماری عدالتی اسٹبلشمنٹ میں عروج پر بتایا جارہا ہے اور وہ ماتحت اور اعلی عدلیہ میں تعینات بعض ججز صاحبان کی طرف سے ایسے مقدمات کی سماعت کیے جانا جس میں مدعی یا الزام علیہ یا ان کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء کا تعلق سماعت کرنے والے ججز سے ہوتا ہے یا تو ان کے کہیں نہ کہیں مفادات ملتے ہیں یا ٹکراتے ہیں-
اس ریفرنس میں لاہور ہائیکورٹ میں تعینات ایک اور جسٹس عبدالعزیز چودھری کی طرف بھی اشارہ موجود ہے۔ اور ایسے ہی ایک اور جج عابد چھٹہ کے بارے میں بھی یہی کہا جارہا ہے۔
اس ریفرنس کے مندرجات ایسے ہیں جن پر کورٹ اور کہچری کی راہداریوں میں باتیں سنائی دیتی رہی ہیں ۔ بلکہ گزشتہ تین عشروں سے یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ ہائیکورٹ میں تعینات ججز اور ان کے ماتحت عدالتی عملہ صوبائی ترقیاتی اداروں کمیونیکشن اینڈ ورکس، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پلاننگ، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے، واسا ودیگر میں تعینات بیوروکریسی کو ایسے ترقیاتی کاموں کا کہتے ہیں جس کے لیے ایم اینڈ آر کی مد میں بجٹ ہی منظور نہیں ہوتا اور بیوروکریسی وہ کام شہریوں کے لیے منظور شدہ ترقیاتی کاموں کے لیے منطور فنڈز سے کراتی ہے اور بوگس کاغذات تیار کرکے اس کو چھپاتی ہے اور اس آڑ میں بدعنوان افسران کی چاندی ہوجاتی ہے اور وہ نڈر ہوکر راگ الاپتے ہیں،
‘سیاں لگے کوتوال ، ڈر کاہے کا
ہم جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ “70 سال سے اشرافیہ کا ملک پر قبضہ ہے قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سزا ملے گی ، تب ہی لوگ ٹھیک ہوں گے” کی روشنی میں عدالتی اسٹبلشمنٹ کے اندر اپنے اختیارات اور منصب کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کو انصاف کے کہٹرے میں لیکر آئیں گے۔
ہم ان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کہیں گے کہ وہ سپریم کورٹ، ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالتوں میں تعینات ججز کے بارے میں ایک بار پھر تفصیلی رپورٹس منگوائیں اور ان کی مکمل اسکریننگ کرائیں اور جس پر ظلم، بدعنوانی، ناانصافی کے کالے بادل منڈلاتے نظر آئیں، اسے فی الفور عدلیہ سے نکال باہر کریں۔ جب تک عدالتی اسٹبلشمنٹ میں انصاف دشمن لوگ موجود رہیں گے تب تک عام آدمی کو تیز ترین انصاف کی فراہمی ایک خواب رہے گی-

بجٹ خسارہ اور بلند افراط زر

نگران حکومت نے تیل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کے ساتھ سات روپے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مضبوطی کا فائدہ آئندہ پندرہ دنوں (یکم سے 15 نومبر) تک عام لوگوں کو نہیں دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا مقصد مالیاتی گنجائش پیدا کرنا اور اس طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم کو راحت فراہم کرنا ہے جو آج سے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) کا پہلا جائزہ شروع کرے گی۔
تاہم فیصلہ کرنے والوں نے اس بات پر دھیان ہی نہیں دیا کہ کہ کیا ایندھن کی قیمتوں کو برقرار رکھنے سے بجٹ خسارے کے حوالے سے وقتی طور پر ریلیف ملے گا لیکن اس سے افراط زر کو کم کرنے میں زرا مدد نہیں ملے گی جو عام آدمی کا مسئلہ تو ہے ہی ساتھ ساتھ بلند افراط زر کا سیدھا سادھا مطلب بجٹ خسارے میں انتہائی اضافے کے رجحان کو روکنے میں ناکام رہنا بھی ہے۔
فنانس ڈویژن کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردہ ماہانہ اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک برائے اکتوبر 2023 ء میں تخمینہ سہ ماہی کنزیومر پرائس انڈیکس (جولائی تا ستمبر) 29 فیصد لگایا گیا ہے – اگر پیٹرولیم اور مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاتی ہے تو اکتوبر کے لئے شرح میں کسی بڑی کمی کی امید نہیں ہے بلکہ جیسے اگست کے مقابلے میں ستمبر میں افراط زر میں 4 فیصد اضافہ ہوا تھا تو اکتوبر میں بھی اس میں کمی نہیں آئے گی-
غیر مستحکم بجٹ خسارہ انتہائی افراط زر کی پالیسی کے سبب ہے اور اس تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جولائی 2023ء میں خسارہ گزشتہ سال جولائی کے 210 ارب روپے کے مقابلے میں 225.3 ارب روپے تھا لیکن جولائی تا ستمبر 2023ء کے دوران خسارے میں 17.6 فیصد کا اضافہ ہوا جو گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 819 ارب روپے تھا۔ جولائی تا ستمبر 2023ء کے دوران 963 ارب روپے ہوگیا-
اور اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ بجٹ خسارے میں یہ اضافہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی وصولیوں میں 25 فیصد اضافے اور نان ٹیکس ریونیو میں 114.7 فیصد اضافے کے باوجود ہوا ہے (پیٹرولیم لیوی کا اہم حصہ ہے، جو رواں سال کے بجٹ میں مجموعی غیر ٹیکس محصولات کی وصولیوں کا 29.3 فیصد ہے – اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 37.5 فیصد منافع کے بعد دوسرے نمبر پر ہے) سال کے لئے مجموعی غیر ٹیکس محصولات کی وصولی)۔
نگران اقتصادی ٹیم کے رہنماؤں نے ایف بی آر اور نان ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ وصولیاں معاشی سرگرمیوں میں کمی کے ماحول میں ہیں۔
یہ درست ہے کہ آؤٹ لک اینڈ اپ ڈیٹ میں جولائی تا اگست 2023 میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن جولائی-اگست 2022 میں منفی 1.2 فیصد کی کم بنیاد کو دیکھتے ہوئے رواں سال کے پہلے دو مہینوں کے دوران اضافہ سنگین تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔
رپورٹ میں 2023-24 کے لئے 2.5 فیصد ترقی کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے ، جو پچھلے مالی سال کے منفی 0.2 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے (حالانکہ یہ اگست 2023 اپ ڈیٹ میں نوٹ کردہ 2022-23 کے منفی 10.3 فیصد کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا ہے)۔
اس پندرہ دنوں کے لئے پی او ایل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے سے پیدا ہونے والی مالی گنجائش کا مناسب فائدہ اٹھانے کے لئے حکومت کو موجودہ اخراجات کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
ملک کی معیشت میں ان کی شراکت طویل عرصے تک قابل ستائش رہے گی اگر وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سے مستفید ہونے والوں کے علاوہ ان تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں رہیں، جنہیں کل موجودہ اخراجات کا صرف 3.2 فیصد بجٹ دیا گیا ہے، اور رواں سال کے لیے اپنے خریداری بجٹ میں رضاکارانہ کمی کے ساتھ ساتھ غیر مقبول بجٹ کا آغاز بھی کریں۔ سیاسی نقطہ نظر سے، پنشن اصلاحات ٹیکس دہندگان پر پورا انحصار کرنے کے بجائے ملازمین کے تعاون کو یقینی بنانے کے لئے.
صرف یہ امید کی جا سکتی ہے کہ پیٹرول اور مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ کر کے پیدا ہونے والی مالی گنجائش مناسب پالیسیوں کے نفاذ کے ذریعے بجٹ خسارے پر قابو پانے کے ذریعے افراط زر کو کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں عام عوام کے فائدے کے لئے عام قیمتوں کی سطح کو کم کرنے کی صلاحیت ہے۔

سماج بچوں کا دوست کب بنے گا؟

جدید دنیا میں مہذب سماج ہونے نہ ہونے کی جانچ کے کئی معیارات میں سے ایک معیار اس سماج کا بچوں کی طرف رجحان ہے۔ پاکستانی سماج کا بچوں کی طرف مجموعی رویہ کیا ہے؟ اس کا اندازہ حال ہی میں شایع ہونے والی ایک پاکستانی غیرسکاری تنظیم کی 2023ء کے بارے میں جاری کی جانے والی رپورٹ سے لگایا جاسکتا”پاکستان میں ایک دن میں روزانہ 12 بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں-(ظاہر ہے بہت سارے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی تعداد کہیں زیادہ ہے-)” ۔
اس رپورٹ کے مطابق سال 2023ء میں 2227 بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میدیا میں رپورٹ ہوئے جبکہ 2011ء میں 2217 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ میڈیا میں کم عمر لڑکیوں سے زیادہ کم عمر لڑکوں سے جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس فرق کی وجہ ہمارا سماجی نظام ہے جو لڑکیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کو سرے سے رپورٹ کرنے سے گریز کی پالیسی پر متاثرہ لڑکیوں کے والدین کو مجبور کردیتا ہے کیونکہ اگر لڑکیکی شناخت ظاہر ہوجائے تو اسے ساری عمر کے لیے پیشمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2023ء کی پہلی ششماہی میں بھی میڈیا میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں متاثرہ بچے بچیوں کی عمر 6 سال سے 15 سال کے درمیان تھی- جبکہ کزشتہ بیس سالوں میں بچوں سے زیادتی کے زیادہ تر واقعات بھی 6 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے ساتھ ہوئے۔ اس ایک تفصیل سے بھی ہمارے سماج کے غیر انسانی اور حیوانی سطح پر زندگی گزارنے کی شرح کا اندازہ ہوتا ہے۔
بچوں سے زیادتی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے جہاں ہمیں پولیسنگ، نگرانی اور کنٹرول کے نظام کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے، وہیں پر ہمیں گھر، بازار اور اسکول، مدرسے جانے والے بچوں کو سلیف ڈیفینس، گڈ ٹچ اینڈ بیڈ ٹچ اور دیگر احتیاط سکھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں نفسیاتی عوارض میں مبتلا لوگوں کے علاج کی بھی شدید ضرورت ہے تاکہ پیڈوفیلیا کے بڑھتے رجحان کا تدارک کیا جاسکے اور معاشرے میں بچوں کو تحفظ کا احساس دلایا جاسکے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں