ملتان (کرائم سیل) خیرپور ٹامیوالی کے بدنام منشیات فروش علی شاہ اور اس کے بھائی جنید شاہ نے اقتدار میں شامل ایک سیاسی پارٹی کے بااثر فرد کی مبینہ آشیرواد کے بعد سی سی ڈی کی کارروائی کے خوف سے اس کے ڈیرے پر پناہ حاصل کر رکھی ہے، ذرائع کے مطابق یہ دونوں بھائی اب اسی سیاست دان کی گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں، جس کے باعث سی سی ڈی بھی مبینہ طور پر ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے اور ان پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے ہاتھ کھڑے کر چکی ہے حالانکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کی قیادت میں پورے پنجاب میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے، اس کے باوجود علی شاہ اور جنید شاہ جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میلسی، بہاول نگر اور بہاولپور ضلع میں منشیات کا منظم نیٹ ورک چلا رہے ہیں، یہ وہ بدنام گینگ ہے جس کا نیٹ ورک تعلیمی اداروں تک پھیلا ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حمایتیاں چوک بہاولپور میں بھی ان کے سب ڈیلرز سرگرم ہیں، یاد رہے کہ یکم دسمبر میں روزنامہ قوم میں شائع ہونے والی خبر میں بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ پولیس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جنوبی پنجاب میں منشیات کا بڑا نیٹ ورک چلانے والے شاہ برادران کو گرفتار کرنا اور انہیں سزا دلوانا ایڈیشنل آئی جی اور سی سی ڈی کے سربراہ کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے، مقامی ذرائع اور میڈیا کے مطابق خیرپور ٹامیوالی پولیس کی جانب سے مبینہ سہولت کاری، سیاسی سرپرستی اور بااثر افراد کے قریب رہنا ہی وہ عوامل ہیں جن کے باعث یہ ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ان کے والد کو اینٹی نارکوٹکس فورس بھاری منشیات کے ساتھ گرفتار بھی کر چکی ہے، اطلاعات کے مطابق شاہ برادران ان دنوں خواتین کے ذریعے منشیات کی ترسیل کرا رہے ہیں جبکہ دریائی علاقوں میں منشیات پہنچانے کے لیے گھوڑوں کے استعمال کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔







