بہاولپور (کرائم سیل) خیرپور ٹامیوالی اور گردو نواح میں آن لائن اسکیموں کے نام پر فراڈ کرنے والے ایک منظم اور خطرناک گروہ کا انکشاف ہوا ہے، جو مختلف سرکاری اداروں کے اہلکار بن کر شہریوں کو فون کرتے ہیں اور ان کے قریبی رشتہ داروں کی گرفتاری کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم بٹورنے کے ساتھ ساتھ جعلی کرنسی بنانے والی مشینیں اور نان کسٹم گاڑیوں کی خرید وفروخت کا لالچ دیکر انہیں ٹھگ لیتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس نیٹ ورک میں فیاض دادپوترہ، نور سلطان محمد کا لا سیال، محمد رجب سیال، اسماعیل، محمد عباس سیال، محمد وسیم گجر اور شاہد ممڑ سمیت کئی افراد شامل ہیں،جو کے سابقہ کریمنل ریکارڈ یافتہ ہیں اور جنہیں مقامی سطح پر چند بااثر شخصیات اور نام نہاد “شرفا” کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ متاثرین کے مطابق اگر کوئی شخص ان کے خلاف کسی فورم پر درخواست دے تو یہ گروہ اسے نہ صرف اغوا کر لیتا ہے بلکہ تشدد کا نشانہ بنا کر مقدمات واپس لینے پر مجبور کرتا ہے، جبکہ مقامی پولیس بھی ان کی مکمل پشت پناہی کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ گروہ نہ صرف “جیتو پاکستان” جیسے جعلی آن لائن اسکیموں کے ذریعے عوام کو لوٹتا ہے بلکہ نان پیڈ کسٹم گاڑیاں، جعلی کرنسی مشینوں کی فروخت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہے۔ یہ نیٹ ورک کہروڑ پکا، میاں چنوں، وہاڑی اور خیرپور ٹامیوالی سمیت متعدد شہروں میں اپنے کارندوں کے ذریعے سرگرم ہے اور کئی سنگین جرائم میں مطلوب ہونے کے باوجود قانون کی گرفت سے باہر ہے۔ متاثرہ شہری سجاد احمد بلوچ کے مطابق:مجھے بھی ‘جیتو پاکستان’ اسکیم کے ذریعے 5 لاکھ 20 ہزار روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ جب میں نے تمام تر ثبوتوں کے ساتھ درخواست دی تو اسی گروہ کے افراد نے مجھے خیرپور ٹامیوالی سے اغوا کیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ میں نے واقعے کا مقدمہ نمبر 673/25 تھانہ خیرپور ٹامیوالی میں درج کرایا، لیکن آج تک پولیس نے کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا۔‘‘سجاد بلوچ نے مزید بتایا کہ ’’یہ لوگ اتنے بااثر ہیں کہ ایف آئی اے، ایف بی آر، پولیس سمیت کوئی بھی ادارہ ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔ مجھے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور اپنی جان بچانے کے لیے مجھے اپنا گھر چھوڑ کر لاہور منتقل ہونا پڑا۔‘‘ متاثرہ شہری نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ:اغوا اور تشدد کے ذمہ داروں کو گرفتار کر کے سخت سزائیں دی جائیں۔شہریوں کو اس فراڈ گروہ سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ گروہ مزید شہریوں کو نشانہ بنا کر کروڑوں روپے کا فراڈ کر سکتا ہے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسے جعلی فون کالز اور اسکیموں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔آن لائن فراڈ کے اس نیٹ ورک نے نہ صرف درجنوں شہریوں کو مالی نقصان پہنچایا بلکہ ریاستی اداروں کی رِٹ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اب بھی خاموش رہے تو یہ گروہ مستقبل میں ایک بڑا جرائم پیشہ نیٹ ورک بن کر اُبھر سکتا ہے۔







