خیرپور ٹامیوالی: منشیات فروش علی شاہ و جنید شاہ بااثر، پولیس پکڑنے میں ناکام

بہاولپور (کرائم سیل)خیرپور ٹامیوالی کے بدنامِ زمانہ منشیات فروش ڈان علی شاہ اور اس کے بھائی جنید شاہ کی گرفتاری بہاولپور پولیس کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکی ہے جوانہیں گرفتار کرنے میں تاحال مکمل طور پر ناکام نظر آرہے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) بھی ان خطرناک منشیات فروشوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جبکہ مقامی پولیس تھانہ خیرپور ٹامیوالی کی خاموشی اور عدم دلچسپی نے شکوک و شبہات کو جنم دے دیا ہے۔عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صوبے بھر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات پر منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور اور بے رحم کارروائیاں ہو سکتی ہیں، تو پھر جنوبی پنجاب خصوصاً بہاولپور میں یہ دو بڑے منشیات اور آئس کے ڈیلر کس کے سہارے دندناتے پھر رہے ہیں؟ کیا قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے یا بااثر عناصر کے لیے کوئی اور ضابطہ موجود ہے؟تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر میں کئی دہائیوں سے منشیات کا دھندہ کرنے والے بڑے بڑے نیٹ ورک توڑ دیے گئے، متعدد ڈیلر جیلوں میں ہیں اور کئی اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے، مگر خیرپور ٹامیوالی کے علی شاہ اور جنید شاہ، جنہیں مبینہ طور پر طاقتور سیاسی شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے، آج بھی پولیس کے لیے ’’ناقابلِ گرفت‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مقامی پولیس تھانہ خیرپور ٹامیوالی واقعی بے بس ہے یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے؟ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر نیت ہو تو ایک دن میں کارروائی ممکن ہے، مگر یہاں ایک ماہ میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہونا پولیس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔خیرپور ٹامیوالی سمیت ضلع بہاولپور کی سول سوسائٹی، سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھا سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، سی سی ڈی کو براہِ راست اور آزادانہ کارروائی کا حکم دیا جائے، مبینہ سرپرست عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور اگر مقامی پولیس کی غفلت یا ملی بھگت ثابت ہو تو متعلقہ افسران کے خلاف بھی مثال قائم کی جائے۔عوامی حلقوں کا واضح مؤقف ہے کہ اگر علی شاہ اور جنید شاہ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو یہ نہ صرف منشیات کے خلاف حکومتی زیرو ٹالرنس پالیسی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گا بلکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بھی مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ مزید سنگین انکشافات اور عوامی ردعمل سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں