اسلام آباد: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں فوجی آپریشن سے انکار کا مطلب خوارج کے سامنے بیٹھ جانا ہے، اور سوال اٹھایا کہ کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے یا اس کی بیعت کر لی جائے؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اہم اور تفصیلی پریس کانفرنس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور گزشتہ برس کے دوران کیے گئے انسداد دہشت گردی اقدامات پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد صرف اور صرف دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے کیونکہ اس وقت ریاستِ پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور یہ جنگ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے، جس میں ریاست اور عوام کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی موجود ہے۔ ان کے مطابق سال 2025 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال ثابت ہوا، جس دوران انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں بے مثال شدت دیکھنے میں آئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ برس ملک بھر میں 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات کا تعلق اس سیاسی ماحول سے ہے جو خیبر پختونخوا میں دہشت گرد عناصر کے لیے سازگار بنایا گیا، جہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ پروان چڑھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 1 ہزار 739 آپریشنز شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران 2 ہزار 597 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی نے 2021 کے بعد دوبارہ سر اٹھایا، اسی سال افغانستان میں تبدیلی آئی اور دوحہ معاہدہ ہوا، جس کے تحت افغان گروپ نے تین وعدے کیے تھے، جن میں افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینا اور خواتین کی تعلیم کو یقینی بنانا شامل تھا، تاہم عملی طور پر یہ وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے اور وہاں سے ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کو منظم کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد چاہے داعش سے تعلق رکھتے ہوں، القاعدہ سے یا ٹی ٹی پی سے، سب دہشت گرد ہیں اور ان کا دین اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی اور آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے چہرے سے نہیں اتری۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خیبر پختونخوا کے سیاسی بیانیے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ یہ کہتے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے اور کابل ہماری سیکیورٹی کی گارنٹی دے، جو ایک مضحکہ خیز اور خطرناک سوچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوجی آپریشن نہیں کرنا تو پھر خوارج کے سامنے بیٹھنا پڑے گا، اور سوال اٹھایا کہ کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے یا اس کی بیعت کر لی جائے، اور کیا ہبت اللہ یہ طے کرے گا کہ چارسدہ میں کیا ہوگا۔
آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دہشت گردی کے لیے کسی قسم کی ہمدردی نہیں، دہشت گردی کی صرف ایک ہی صورت قابلِ قبول ہے اور وہ ہے دہشت گردی کا خاتمہ۔







