خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر: کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں سے 146 افراد ہلاک، شدید تباہی

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں سے تباہی، 146 سے زائد جاں بحق
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق اب تک خیبر پختونخوا میں 146 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔
باجوڑ کی تحصیل سالارزئی کے علاقے جبراڑئی میں گزشتہ رات آنے والے سیلابی ریلے سے متعدد مکانات تباہ ہو گئے، سڑکیں اور پل بہہ گئے۔ مختلف حادثات میں 21 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 7 افراد لاپتہ ہیں اور تلاش جاری ہے۔ تین زخمیوں کو طبی امداد کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 126 مرد، 8 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 12 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ متاثرہ علاقوں میں 35 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 28 جزوی اور 7 مکمل تباہ ہوئے۔
مانسہرہ کے علاقے بٹگرام میں رات گئے کلاؤڈ برسٹ سے متعدد افراد بہہ گئے، جس میں 7 افراد جاں بحق اور شانگلہ میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ مقامی مکانات تباہ اور مال مویشی بھی سیلاب میں بہہ گئے، جن کی تلاش جاری ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ اضلاع قرار دیا گیا ہے اور ریسکیو ٹیموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ امدادی کارروائیوں میں صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہو رہا ہے۔
بونیر میں طوفانی بارشوں اور آبی ریلوں سے 75 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 25 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں۔ کئی دیہات کلاؤڈ برسٹ سے شدید متاثر ہوئے اور زمینی رابطے منقطع ہو گئے، جس کی وجہ سے ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔
آزاد کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ اور ندی نالوں کے طغیانی سے 8 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ گلگت بلتستان میں مختلف حادثات میں 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔ آزاد کشمیر حکومت نے شدید بارشوں کے باعث دو روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں