خواتین یونیورسٹی میں قانونی بحران، ڈاکٹر کلثوم کا ٹینیور ختم مگر کانووکیشن کرانیکی تیاریاں

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں اختیارات، قانون اور اخلاقیات کو کھلے عام چیلنج کیے جانے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ یونیورسٹی کی متنازع پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے عہدے کی مدت ختم ہونے میں صرف چار دن باقی رہ گئے ہیں مگر اس کے باوجود وہ مبینہ طور پر نہ صرف اختیارات چھوڑنے سے انکاری ہیں بلکہ قانون کے برعکس بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے اور کانووکیشن منعقد کروانے کی تیاری بھی کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ پر پہلے ہی متعدد سنگین الزامات لگ چکے ہیں جن میں تین مختلف تاریخ پیدائش ظاہر کرنا، نجی کالج کے مبینہ جعلی تجربے کا استعمال، سیلاب فنڈز، گرینڈ گالا اور سیرت کانفرنس کے نام پر ٹیکس بچانے اور فنڈز ہڑپ کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔ ان الزامات کے باعث یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے ایک بیان میں یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کی پرو وائس چانسلر شپ ختم ہونے والی ہے تاہم انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ بطور سینئر پروفیسر وائس چانسلر کی ذمہ داریاں سنبھالتی رہیں گی اور کانووکیشن کا انعقاد بھی کروائیں گی۔ لیکن خواتین یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ کے مطابق ایک سادہ پروفیسر کسی بھی صورت وائس چانسلر کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا اور یہ عہدہ صرف پرو وائس چانسلر ہی سنبھال سکتی ہے۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور کمشنر ملتان کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس اور ہدایات کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے ریگولر وائس چانسلر کے اختیارات استعمال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی کی کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر حنا علی نے کہا کہ چونکہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا ٹینیور ختم ہونے والا ہے، اس لیے ابھی تک کانووکیشن کا کوئی باضابطہ اشتہار جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ یونیورسٹی میں کانووکیشن کی تیاریاں جاری ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق تو نئی وائس چانسلر ہی کانووکیشن کرا سکتی ہیں۔ یونیورسٹی کی دو سابق رجسٹرارز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ بچگانہ ضد کے ذریعے یونیورسٹی کے قانون کو مذاق بنا رہی ہیں اور حیرت انگیز طور پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایک سابق وائس چانسلر نے بھی اس اقدام کو واضح طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہوگی بلکہ رجسٹرار، کنٹرولر اور خزانچی سمیت متعلقہ افسران کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔ دوسری جانب یونیورسٹی میں ایک اور بڑا آئینی سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 26 مارچ کو کانووکیشن کے دوران دی جانے والی ڈگریوں پر بطور وائس چانسلر کس کے دستخط ہوں گے؟ کیونکہ اس تاریخ تک کسی نئے ریگولر وائس چانسلر کی تقرری بھی نہیں ہوئی۔ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کا کہنا ہے کہ صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ تعلیمی ادارہ انتظامی بحران اور قانونی الجھنوں میں پھنس گیا ہے، جبکہ مبینہ طور پر سیرت فنڈ کے لاکھوں روپے کھانے اور متنازع سروس ریکارڈ رکھنے والی پرو وائس چانسلر کے خلاف اب تک کوئی واضح کارروائی نظر نہیں آ رہی۔ جبکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو سخت ترین سوالات کا سامنا ہے کہ 1۔اگر پرو وائس چانسلر کا ٹینیور ختم ہو رہا ہے تو قانون کے مطابق انہیں اختیارات استعمال کرنے سے کیوں نہیں روکا جا رہا؟ 2۔تین مختلف تاریخ پیدائش رکھنے کے الزامات کی تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں؟ 3۔ اگر پہلی تاریخ پیدائش کے مطابق وہ 2024 میں ریٹائر ہو چکی تھیں تو انہیں اب تک عہدے پر کیوں رکھا گیا؟ 4۔ سیلاب فنڈ، گرینڈ گالا اور سیرت کانفرنس کے فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں؟ 5۔ اگر کانووکیشن غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے تو اسے روکنے کے لیے فوری حکم کیوں جاری نہیں کیا جا رہا؟ 6۔ 26 مارچ کو دی جانے والی ڈگریوں پر بطور وائس چانسلر دستخط کون کرے گا؟ 7۔ اگر کوئی سینئر پروفیسر غیر قانونی طور پر وائس چانسلر کے اختیارات استعمال کرتا ہے تو کیا اس کے خلاف فوجداری کارروائی ہوگی؟ 8۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے وہ افسران جو اس غیر قانونی عمل میں معاون بن رہے ہیں، ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟9۔ کیا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب واقعی اس بحران سے بے خبر ہے یا دانستہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے؟ 10۔ اور سب سے بڑا سوال: کیا خواتین یونیورسٹی ملتان کو قانون کے مطابق چلایا جائے گا یا اسے چند افراد کی ذاتی جاگیر بنا دیا گیا ہے؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں