ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی پروفیسر ڈاکٹر میمونہ خان جو کہ گزشتہ 18 ماہ سے ایڈیشنل چارج پر رجسٹرار کی آسامی پر تعینات ہیں، سے رجسٹرار کا اضافی چارج واپس لینے کی بابت وائس چانسلر خواتین یونیورسٹی ملتان کو اسی یونیورسٹی کے ریذیڈنٹ آڈیٹر کاشف رضا کی جانب سے ایک خط لکھ دیا گیا جسے اپنی ٹیلیفونک گفتگو میں وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے جعلی اور جھوٹا خط قرار دیا ہے مگر ساتھ ہی اس خط کا جواب بھی دے دیا گیا جو کہ اس خط کی صداقت کو ثابت کرتا ہے۔ تفصیل کے مطابق 59 سالہ پروفیسر ڈاکٹر میمونہ خان جن کی ریٹائرمنٹ میں 3 ماہ باقی ہیں گزشتہ ڈیڑھ سال سے رجسٹرار کی پوسٹ پر غیر قانونی طور پر تعینات ہیں۔ ڈاکٹر میمونہ خان ایکٹنگ چارج پر تعینات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے معاملات مینج کرکے گزشتہ ڈیڑھ سال سے مسلسل اضافی چارج پر رجسٹرار کی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رجسٹرار کی عمر 40 سے 50 سال کے درمیان ہونی چاہیے اور یہ عمر کی یہ حد خواتین یونیورسٹی کے اپنے قانون میں بھی موجود ہے مگر رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ خان ایکٹنگ چارج وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ساتھ مل کر معاملات کو طول دے رہی ہیں۔ جس کی بابت کاشف رضا، ریذیڈنٹ آڈیٹر خواتین یونیورسٹی ملتان نے وائس چانسلر کو خط لکھا کیونکہ اس پر آڈٹ اعتراض ہو سکتا ہے۔ رجسٹرار کے عہدے کا اضافی چارج پروفیسر ڈاکٹر میمونہ کو 17 اگست 2023 سے تفویض کیا گیا ہے، اور وہ ابھی تک سرکاری ہدایات پر عمل کیے بغیر بطور رجسٹرار کام کر رہی ہیں جیسا کہ لیٹر نمبر SOUNIV 09 4/2018 مورخہ 20-7-2022 اور لیٹر No.PA/SLO/WP/Letters/2024 مورخہ 29.10.2024 میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار کے عہدے کا اضافی چارج ابتدائی طور پر تین ماہ کی مدت کے لیے تفویض کیا جائے گا، تاہم اس عہدے کا اضافی چارج مستقل طور پر ایک عہدے دار کو تفویض کرنے کے غیر ضروری رواج کو روکنے کے لیے، اضافی چارج کی زیادہ سے زیادہ مدت۔ ایک شخص/افسر کو ایک کیلنڈر سال میں چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اصولی طور پر، فی الحال، پروفیسر ڈاکٹر میمونہ کا بطور رجسٹرار مسلسل اضافی چارج قانونی طور پراضافی چارجز کو کنٹرول کرنے والی پالیسی کے متضاد اور غیر قانونی ہے۔ اس کے علاوہ، یونیورسٹی کے اندر رجسٹرار کا عہدہ نمایاں طور پر اہم ہے، جو سنڈیکیٹ کے سیکرٹری اور مختلف کمیٹیوں کے اہم رکن کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے۔ ریذیڈنٹ آڈیٹر کے مطابق وہ کسی بھی غیر قانونی حکم یا نوٹیفکیشن اور میٹنگ کی کارروائی کو قبول نہیں کریں گے جس میں مذکورہ پروفیسر، بطور رجسٹرار کام کرتی ہوں، اور اگر وہ رجسٹرار کے طور پر برقرار رہتی ہیں، تو ان کی تمام میٹنگز اور کمیٹیاں غیر قانونی ہوں گی۔ چنانچہ اس خط میں وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے درخواست کی گئی کہ وہ اضافی چارج فوری طور پر واپس لے لیں، اور یونیورسٹی کے معاملات کو ہموار طریقے سے چلانے کے لیے حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کریں۔ اس بابت جب خواتین یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے موقف کے لئے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ جعلی خط ہے اور اس بابت انہوں نے اپنی لیگل ٹیم سے کارروائی کے لیے بات بھی کر لی ہے۔ مگر حیران کن طور پر وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے کاشف رضا، ریذیڈنٹ آڈیٹر کو خط کا جواب بھی دے دیا گیا جس کے مطابق یونیورسٹی کے معاملات چلانےکے لئے مستقل رجسٹرار ، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات کا ہونا بہت ضروری ہے۔ وی سی کا موقف ہے کہ مذکورہ عہدوں پر مستقل تقرری کرنا ممکن نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اس یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ نے بھی یونیورسٹی کے قوانین میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے۔ علاوہ ازیں رجسٹرار کی تقرری کا معاملہ بھی لاہور ہائی کورٹ، ملتان بنچ، ملتان میں زیر سماعت ہے۔ اپنے جوابی خط میں وائس چانسلر نے موقف اختیار کیا کہ بیان کردہ حقائق کے پیش نظر، زیر دستخطی کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر میمونہ یاسمین جیسی سینئر ترین اور تجربہ کار فیکلٹی ممبر ہی کو اضافی ڈیوٹیاں سونپ دیں جنہیں سنڈیکیٹ/ تقرری اتھارٹی نے فرائض سونپے تھے۔ ریگولر وائس چانسلر کی تقرری کے بعد ہی یہ عہدہ بھی مکمل کیا جائے گا اور ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ یونیورسٹی کے معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے رجسٹرار کے عہدے کی ذمہ داریاں طویل مدت کے لیے ایک افسر کو سونپی گئی تھیں۔ اور یہ کہ وائس چانسلر کی منظوری حاصل کیے بغیر مضمون کے خط کو پوری یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی سے باہر تقسیم کرنے کے عمل پر وی سی نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا جو کہ اصولوں اور اخلاقیات کے خلاف ہے اس لئے جنوبی پنجاب کے خواتین کے ادارے کے مفاد میں اس طرح کے عمل سے آئندہ گریز کریں۔






