خواتین یونیورسٹی ملتان: کلثوم پراچہ کے جعلی فیصلے، قانون حرکت میں آگیا، عدالت کا سٹے آرڈر

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں طویل عرصے سے جاری غیر قانونی، جعلی اور کرپشن پر مبنی فیصلوں کے خلاف بالآخر قانون حرکت میں آ گیا۔ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے جعلی پروفیسر اور عارضی وائس چانسلر/پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے اس متنازع فیصلے کو سخت دھچکا پہنچاتے ہوئے ایڈوانس انکریمنٹس کی کٹوتی پر واضح حکمِ امتناع (Stay Order) جاری کر دیا ہے، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ ہر قسم کی کٹوتی سے روک دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے درجنوں ملازمین کی ایڈوانس انکریمنٹس کو غیر قانونی قرار دے کر نہ صرف کٹوتی کا حکم دیا بلکہ ریکوری کے لیے بھی سخت اقدامات کی تیاری کر لی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ ملازمین کو کسی قسم کی رعایت دیے بغیر یکمشت ریکوری کی جائے اور عدم ادائیگی کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انتہائی حیران کن صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو خزانچی کے عہدے کے لیے ایک کے بعد ایک خاتون پروفیسر سے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے ڈاکٹر مصباح مرزا نے واضح اختلاف کے بعد ذمہ داری چھوڑ دی، اس کے بعد ڈاکٹر سارہ مصدق، پھر ڈاکٹر تنزیلہ، اس کے بعد عشرت ریاض، پھر ڈاکٹر انعم جاوید نے بھی اس متنازع عمل کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ 29 دسمبر کو ڈاکٹر مکیہ کو خزانچی کا چارج دیا گیا جسے روزنامہ قوم کے ماہرین قانون اور یونیورسٹی ذرائع نے سراسر غیر قانونی قرار دیا۔ تاہم روزنامہ قوم میں خبر شائع ہونے کے فوراً بعد یہ چارج واپس لے کر گزشتہ روز ڈاکٹر طاہرہ یونس کو سونپ دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ڈاکٹر طاہرہ یونس کو اس بات پر راضی کر لیا کہ تمام انکریمنٹس غیر قانونی ہیں، جس کے بعد اگلے ہی ماہ ملازمین کو ریکوری لیٹرز جاری کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی تھی۔ یہ اقدام ملازمین کے لیے ایک بڑے عذاب سے کم نہ تھا۔ اسی دوران یونیورسٹی کی چند پروفیسر صاحبان کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر عدالت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہر قسم کی کٹوتی پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ حکم ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے غیر قانونی فیصلے پر ایک واضح عدالتی عدم اعتماد اور غیر قانونی احکامات پر ایک بہت بڑا طمانچہ ہے۔ مزید کمشنر ملتان کی جانب سے بھیجے گئے دوسرے شوکاز نوٹس کے بارے میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر پراچہ ایسے شوکاز کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتیں اور نہ انہوں نے دیا ہے۔ کچھ خواتین اساتذہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کے بارے میں بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کبھی کہتی ہیں کہ وہ جعلی ہے۔ اور کبھی کہتی ہیں کہ ایسے لیٹر بہت آتے ہیں اور ہر لیٹر کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی انہوں نے کوئی جواب بھیجا ہے۔ مصدقہ معلومات کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کنٹرولر ڈاکٹر حنا علی اور رجسٹرار ڈاکٹر ثمینہ اختر کو بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کچھ اساتذہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا کہنا ہے کہ میں نے ڈاکٹر حنا علی کو پروفیسر بنوایا اور یہ گروپنگ کر رہی ہیں۔ اسی طرح وائس چانسلر آفس کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے رجسٹرار ڈاکٹر ثمینہ اختر سے شدید بد تمیزی کی۔ جس طرح انہوں نے سابقہ رجسٹرار ڈاکٹر ملکہ رانی سے بھی بہت زیادہ بد تمیزی کی تھی۔ اور ان کو ہٹا دیا تھا۔ اس سے بھی پہلے ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے بڑی مشکل سے ڈھونڈ کر خزانچی تعینات کرنے والی ڈاکٹر طاہرہ یونس کو بھی کنٹرولر ڈاکٹر حنا علی کی تعیناتی سے پہلے بد تمیزی کر کے کنٹرولر کی کرسی سے ہٹا دیا تھا۔ مزید برآں، ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ملتان کے بجائے اسلام آباد کے ایک اخبار میں انٹرویو شائع کروایا جس میں انہوں نے نہ صرف انکریمنٹس بلکہ یونیورسٹی کے آٹھ ملازمین کی تعیناتیوں کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ اخباری کٹنگز یونیورسٹی کے آفیشل فیس بک پیج پر بھی جاری کی گئیں، جسے ملازمین نے اپنی ساکھ پر حملہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف قانونی کارروائی کی تیاری شروع کر دی۔ ذرائع کے مطابق مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ اسی تناظر میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف مبینہ طور پر میٹرک کی جعلی تاریخِ پیدائش اور جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کے معاملے پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفیکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے اپنے کماؤ پوت ایڈمن افیسر محمد شفیق کے ساتھ مل کر گرینڈ گالا، سیلاب فنڈز اور کانفرنسز کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ پھر یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی مبینہ سر پرستی سے غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز، جعلی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تاحال ملازمین کے لیے درد سر بن چکی ہیں۔ اور مبینہ طور پر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ہونے والی QUO WARRANTO کوئی ایکشن نہ لے کر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں