ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں انتظامی و مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ۔ عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے مستقل وائس چانسلر کی متوقع تعیناتی کا علم ہونے سے محض چند روز قبل اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور کمشنر ملتان کی جانب سے شوکاز نوٹسز موصول ہوتے ہی یونیورسٹی کی انٹرنل آڈٹ کمیٹی کو توڑ کر اپنی مرضی اور من پسند افراد پر مشتمل نئی کمیٹی قائم کر دی۔ذرائع کے مطابق یہ اقدام کسی انتظامی بہتری یا شفافیت کے لیے نہیں بلکہ یونیورسٹی میں موجود آڈٹ اعتراضات، مالی بے قاعدگیوں، مبینہ کرپشن کیسز اور بالخصوص ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے اپنے ہر ماہ کے لاکھوں روپے مالیت کے ٹی اے/ڈی اے کلیمز کو ’’کلیئر‘‘ کروانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل قائم انٹرنل آڈٹ کمیٹی نے ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے منسوب مبینہ دھوکہ دہیوں، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی مالی معاملات کو کلیئر کرنے سے دو ٹوک الفاظ میں انکار کر دیا تھا۔ سابق کمیٹی نے یونیورسٹی میں اپنی ایک میٹنگ میں کہا کہ ’’ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے، ہم کسی کے غیر قانونی کاموں کا حصہ نہیں بن سکتے۔‘‘اسی اصولی انکار کے بعد بغیر کسی ٹھوس وجہ کے نہ صرف پوری آڈٹ کمیٹی تحلیل کر دی گئی بلکہ ایک نئی، فرمانبردار اور من پسند کمیٹی تشکیل دینے کی راہ ہموار کی گئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نوٹیفکیشن نمبر EST-41/WUM/25-17/0 مورخہ 18/12/7025 جاری کیا گیا جس میں سابقہ آڈٹ کمیٹی کو ختم کرتے ہوئے نئی انٹرنل آڈٹ کمیٹی قائم کی گئی۔ یہ نوٹیفکیشن واضح طور پر سابقہ حکم نامہEST-11/WUM/23-562/D مورخہ 16-10-2025کو منسوخ کرتا ہےجس پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے تھے۔ نئی تشکیل شدہ انٹرنل آڈٹ کمیٹی میں سب سے پہلے پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو خود کنوینر/چیئرپرسن مقرر کیا گیا جسے روزنامہ قوم کی قانونی ماہرین کی ٹیم نے انتظامی امور اور مفادات کے شدید ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی کھلی مثال قرار دیاکیونکہ ایک فریق خود اپنے ہی مالی معاملات کا آڈٹ کر رہا ہے۔ کمیٹی کی رکن ڈاکٹر سعدیہ مشرف اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اپلائیڈ سائیکالوجی کے بارے میں 2007-2008 کے میمونہ پوسٹ گریجویٹ کالج کے آفیشل ڈاکومینٹ کے مطابق انہوں نے 2007 میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ساتھ کالج جوائن کیا۔ ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے میمونہ پوسٹ گریجویٹ کالج 1997 کے بجائے 2007 میں جوائن کیا تاہم سرکاری کاغذات میں اس کے برعکس دعویٰ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اس وقت ڈاکٹر سعدیہ مشرف 8210 روپے ماہانہ جبکہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ 9603 روپے ماہانہ تنخواہ پر تعینات تھیں۔ کمیٹی کی ایک اور رکن عشرت ریاض کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی پی ایچ ڈی تاحال جاری ہے اور یونیورسٹی ریکارڈ میں کسی قسم کا پی ایچ ڈی نوٹیفکیشن جمع نہیں کروایا گیا، اس کے باوجود انہیں’’ڈاکٹر‘‘ظاہر کر کے کمیٹی میں شامل کیا گیا تاکہ من پسند فیصلوں کی توقع پوری کی جا سکے۔ اسی طرح ڈاکٹر مدیحہ اکرم (اسسٹنٹ پروفیسر، TTS، شعبہ سوشیالوجی) اور ڈاکٹر دیبا شہوار (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ ماس کمیونیکیشن) کو بھی کمیٹی میں شامل تو کیا گیا مگر یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق ان کا کردار عملی فیصلوں کے بجائے محض دستخط کروانے تک محدود رکھا گیا ہے۔ معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ آڈٹ کمیٹی کے ممبر/سیکرٹری کے طور پر رضوان احمد کو تعینات کیا گیا، جن کے بارے میں مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی ایک نہایت قریبی رشتہ دار کے شوہر ہیں۔ اس تعیناتی کا بنیادی مقصد آڈٹ کے تمام حساس معاملات، بالخصوص لاکھوں روپے کے ماہانہ ٹی اے/ڈی اے کلیمز، مبینہ کرپشن کیسز، سابقہ آڈٹ پیراز کو اپنے حق میں’’سیدھا‘‘ کروانا ہےجبکہ شوکاز نوٹسز کی ٹائمنگ نے شکوک کو جنم دے دیا۔ تعلیمی و سول سوسائٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹسز کے فوراً بعد آڈٹ کمیٹی کی ازسرِ نو تشکیل اور مستقل وائس چانسلر کی متوقع تعیناتی سے قبل یہ سارا عمل محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی ہے، تاکہ آنے والی انتظامیہ کے لیے یونیورسٹی ریکارڈ کو’’کلین‘‘ظاہر کیا جا سکے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ان تمام تر غیر قانونی کاموں پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حیران کن طور پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اس وقت اپنے غیر قانونی کاموں اور فائلوں کو دبانے کے لیے مختلف میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خوشامدیں اور تعریفوں کے بیان دیتی نظر آ رہی ہیں مگر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی کرپشن کے بارے میں زیرو ٹالرنس کے بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے غیر قانونی کاموں اور کرپشن بارے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی خاموشی خواتین یونیورسٹی ملتان کی تعلیمی تباہی اور زیرو کوالٹی کا پیش خیمہ ہیں۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ارباب اختیار اتنے لاتعلق ہیں کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نا اہل انتظامیہ کو دے کر چپ سادھ لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے پوری دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں تعلیمی معیار شدید ترین گراوٹ کا شکار ہے۔ تعلیمی حلقے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے درخواست کرتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے انتظامی ادارہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں بھی ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کی بجائے اعلیٰ تعلیمی اشخاص کو تعینات کریں تاکہ 78 سال گزرنے کے باوجود پاکستان کی یونیورسٹیوں کے تعلیمی معیار کو بہتر کیا جا سکے۔







