ملتان (وقائع نگار) خواتین یونیورسٹی ملتان میں مبینہ طور پر جاری بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غریب ڈیلی ویجز ملازمین کے استحصال سے متعلق انتہائی سنگین شکایات سامنے آ رہی ہیںجنہوں نے اعلیٰ تعلیمی ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی متعدد تحریری و زبانی شکایات کے مطابق خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی، غیر اخلاقی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی سرپرستی میں ان کے قریبی سمجھے جانے والے کماؤ پوت ایڈمن افسر محمد شفیق جو قواعد و ضوابط کے برعکس اس وقت ڈپٹی رجسٹرار کے نہایت اہم عہدے پر فائز ہیں، نے ڈیلی ویجز ملازمین سے مبینہ طور پر کمیشن وصول کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ڈیلی ویجز ملازمین کمیشن ادا نہیں کرتے، ان کے کام کے دن دانستہ طور پر کم کر دیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں نہایت قلیل اور ناکافی تنخواہ دی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ملازمین کی جانب سے یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ڈاکٹر پراچہ کے کماؤ پوت ایڈمن افسر محمد شفیق مبینہ طور پر ناشتے کے اوقات میں غریب ڈیلی ویجز ملازمین سے چائے اور پراٹھے کا انتظام کرواتے ہیں جبکہ دن کے کھانے میں چنے والی پلاؤ منگوانا معمول بنا لیا گیا ہے۔ ان شکایات میں اسے کھلے عام اختیارات کے غلط استعمال اور ملازمین کی تذلیل قرار دیا جا رہا ہے۔ انتہائی تشویشناک پہلو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر تبادلوں کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ جن ڈیلی ویجز ملازمین کے گھر کچہری کے قریب واقع ہیں انہیں پہلے متی تل کیمپس منتقل کیا جاتا ہے اور بعد ازاں کمیشن وصول کر کے دوبارہ کچہری ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جن ملازمین کے گھر متی تل کیمپس کے قریب ہیں، انہیں کچہری کے پاس تعینات کر کے پھر مبینہ طور پر کمیشن لے کر دوبارہ متی تل کیمپس بھیج دیا جاتا ہے۔ شکایات کے مطابق یہ پورا نظام ایک منظم طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام مبینہ اقدامات ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے قریبی اور کماؤ پوت سمجھے جانے والے ایڈمن افسر محمد شفیق کی نگرانی میں ہو رہے ہیں، جو خود بھی قواعد کے برخلاف ایک کلیدی انتظامی عہدے پر براجمان ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ شکایات کے باوجود نہ تو یونیورسٹی کے اندر کوئی شنوائی ہو رہی ہے اور نہ ہی متعلقہ فورمز پر آواز اٹھانے کی جرات کی جا سکتی ہے، کیونکہ انتقامی کارروائی کا خوف ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفیکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے اپنے کماؤ پوت ایڈمن آفیسر محمد شفیق کے ساتھ مل کر گرینڈ گالا، سیلاب فنڈز اور کانفرنسز کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔ پھر یونیورسٹی میں ہونے والی تمام تر کانفرنسز، سیلاب فنڈز کے بھی تمام تر پیسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منگوائے مگر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام قادر، ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ انور کی مبینہ سر پرستی سے غیر قانونی، غیر اخلاقی، ناجائز، جعلی اور کرپٹ ترین وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تاحال ملازمین کے لیے درد سر بن چکی ہیں۔ اور مبینہ طور پر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف ہونے والی QUO WARRANTO کوئی ایکشن نہ لے کر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس بارے میں موقف کے لیے وائس چانسلر کے کماؤ پوت ایڈمن آفیسر اور غیر قانونی طور پر تعینات ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سب الزامات غلط ہیں۔







