ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور ’’اصلاحات‘‘کے دعوے کرنے والی عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر ترقی، بہتری اور انقلابی اقدامات کے بلند و بانگ دعوے تو ضرور کیے جا رہے ہیںمگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس اور انتہائی تشویشناک ہیں۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طالبات نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ ان کے فائنل ٹرم امتحانات انتظامی نااہلی کی نذر ہو گئے۔ طالبات کے مطابق امتحان کے دوران جب جوابی کاپیاں ختم ہو گئیں اور اضافی شیٹ کی ضرورت پیش آئی تو انہیں صاف الفاظ میں بتا دیا گیا کہ یونیورسٹی میں ایکسٹرا شیٹس موجود ہی نہیں۔ مزید حیران کن انکشاف یہ ہے کہ عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق ہر طالبہ کو صرف ایک ہی فالتو شیٹ دی جا سکتی ہے چاہے امتحانی سوالات کتنے ہی طویل کیوں نہ ہوں۔ طالبات نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ان کا قصور کیا ہے؟ ان کے بقول امتحان جیسے حساس مرحلے پر اس قسم کی’’فضول اور غیر پیشہ ورانہ ہدایات‘‘نے ان کی محنت پر پانی پھیر دیا۔ طالبات کا کہنا تھا کہ ہم سے آخر پیپر کے آخری لمحات میں ایسے فیصلوں کی قیمت کیوں وصول کی جا رہی ہے جن کا ہم سے کوئی تعلق ہی نہیں؟ طالبات نے مزید کہا کہ اس انتظامی نااہلی کے باعث ان کے نتائج پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جس کی ذمہ داری نہ تو طالبات پر عائد ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا ازالہ بعد میں ممکن ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ اس نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری قبول کریں گی یا حسبِ روایت سب کچھ طالبات کے مقدر پر ڈال دیا جائے گا؟ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر کامیابیوں کے اشتہارات لگانے سے تعلیمی معیار بہتر نہیں ہوتابلکہ امتحانات جیسے بنیادی معاملات میں شفافیت، سہولیات اور بروقت انتظامات ہی اصل کارکردگی کا پیمانہ ہوتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہو گی بلکہ طالبات کے تعلیمی مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہو گا۔ اس بارے میں عارضی اور غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ، ان کے کماؤ پوت محمد شفیق اور پی آر او کوئی جواب نہ دے سکیں۔ جبکہ انگلش ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والی ایک فیکلٹی ممبر نے تصدیق کی اور کہا کہ یہ میسج گروپس میں واقعی بھیجا گیا ہے کہ Aoa dear coordinators kindly ask your faculty to give only one extra sheet to students as there is shortage of extra sheets in department.اس بارے میں انگلش ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ منزہ ربانی نے کسی کی جانب سے بھیجا گیا میسج فارورڈ کیا کہ یہ شعبہ انگریزی کا داخلی معاملہ ہے جس میں میڈیا کی مداخلت مناسب نہ ہے۔ مزید براں اس ضمن میں شعبہ انگریزی کو کسی قسم کی ہدایات وی سی آفس یا کنٹرولر امتحانات کی جانب سے وصول نہیں ہوئی ہیں۔







