خواتین یونیورسٹی مستقل وی سی کی تقرری سے پہلے انتظامی بحران شدت اختیار کر گیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر کی باقاعدہ تعیناتی کے لیے 26 نومبر کو ہونے والے انٹرویوز سے قبل یونیورسٹی کے اندر انتظامی اور اخلاقی سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ موجودہ عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے متعلق متعدد تحریری و زبانی شکایات ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) کو موصول ہوئی ہیں، جن کے باعث انہیں ریگولر وائس چانسلر کے عہدے کے لیے مبینہ طور پر شارٹ لسٹ نہیں کیا گیا۔ اور اس بارے میں انہوں نے اپنا نام شارٹ لسٹڈ اُمیدواروں میں ڈلوانے کے لیے سیاسی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یونیورسٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق HED کو دی گئی شکایات میں درج ذیل نکات شامل تھے: عارضی و غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے پاس تاریخِ پیدائش سے متعلق ریکارڈ میں بہت سے دھوکہ دہی پر مبنی تضادات موجود ہیں۔ سرکاری ملازمت کے بعد مبینہ طور پر تعلیمی بورڈ میں تاریخِ پیدائش کی تبدیلی کروانے کا الزام بھی شامل ہے۔ میٹرک کے داخلہ فارم کے مطابق ایک سال قبل ریٹائرمنٹ کی عمر پوری کرنے کے باوجود غیر قانونی عہدے پر قابض رہنا، جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ وہ بھی پرائیویٹ کالج کا ہونا اور سکروٹنی کمیٹی میں INELIGIBLE کے باوجود غیر قانونی پروفیسر بننا ایک سوالیہ نشان ہے۔ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر دونوں کو شکایات موصول ہوئیں، جن پر ابتدائی جانچ کے بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو شارٹ لسٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یونیورسٹی کے اندر موجود افراد کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے شارٹ لسٹ نہ ہونے کے بعد ملازمین کے درمیان یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کو فیملی نے انٹرویو میں نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ بیان مبینہ طور پر شارٹ لسٹ نہ ہونے کے معاملے کو ہموار کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ متعدد اساتذہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کئی ماہ سے انتظامی بحران کا شکار ہے۔ ملازمین کے مطابق عارضی اور غیر قانونی نا اہل قیادت کی وجہ سے فیصلہ سازی متاثر ہے یونیورسٹی میں شفافیت، میرٹ اور گورننس کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ 26 نومبر کو HED میں ہونے والے انٹرویوز کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 9 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا جا چکا ہے۔ان امیدواروں میں ملک کی مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے سینئر پروفیسرز شامل ہیں۔ کئی اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ مستقل وائس چانسلر کی تقرری جلد از جلد کی جائے۔ شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ پر لگنے والے الزامات کی باضابطہ انکوائری کروائی جائے۔ خواتین یونیورسٹی ملتان پچھلے دو سال سے انتظامی غیر یقینی کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔ مستقل VC کی عدم موجودگی نے فیصلہ سازی، ترقیاتی منصوبوں، فیکلٹی ہائرنگ اور تحقیقاتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ اگر کسی بھی عہدیدار کے بارے میں فائلوں، اسناد یا تاریخِ پیدائش سے متعلق تضادات سامنے آتے ہیں، تو یہ محض ایک فرد کا معاملہ نہیں رہتابلکہ ادارے کی ساخت، ساکھ اور قانونی حیثیت پر براہِ راست ضرب لگتی ہے۔ ادارے کی قیادت پر معمولی سے معمولی اعتراض بھی اعلیٰ ترین شفافیت کا تقاضا کرتا ہے۔ فی الوقت صورتحال الزامات، بیانات اور اندرونی کشمکش کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس معاملے کا واحد حل ہے کہ ایک شفاف، تحریری، آزاد انکوائری تشکیل دینا، HED کا باضابطہ مؤقف اور یونیورسٹی کی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے کر واضح، میرٹ پر مبنی اور معتبر قیادت ہی اس تنازع کا مستقل حل ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں