ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی وائس چانسلر کا پرو وائس چانسلر کا غیر قانونی ٹینیور بالاخر اپنے اختتام کو پہنچ گیا جس پر یونیورسٹی کی فیکلٹی اور ملازمین نے نہایت سکھ کا سانس لیا۔ اس ٹینیور کے اختتام کے ساتھ ہی تمام ملازمین اس کشمکش میں مبتلا ہیں آیا کہ یونیورسٹی کا نظام کیسے چلے گا۔ کیونکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے پرو وائس چانسلر کے لیے 19 جنوری کو بھیجی گئی سمری مسترد کر دی تھی۔ کیونکہ وہ سمری پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی ہی تعینات کردہ عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار سے خود کو ہی پرو وائس چانسلر کے عہدے کے لیے پہلے نمبر پر نامزد کروایا۔ ان کے بعد دوسرے نمبر پر ڈاکٹر قمر رباب کے خلاف جھوٹ اور بد دیانتی پر مبنی پلندہ لگایا۔ تیسرے نمبر پر ڈاکٹر حنا علی کا نام بطور پروفیسر شامل کیا۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ڈاکٹر حنا علی کو خود پروفیسر کے عہدے پر تعینات کیا۔ تو ان کے بارے میں بھی کچھ نہ لکھا گیا۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ڈاکٹر قمر رباب کا کیرئیر خراب کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس کے بعد بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو ڈر تھا کہ کہیں ڈاکٹر قمر رباب پرو وائس چانسلر منتخب نہ ہو جائیں تو محض 12 دن بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی تعینات کردہ عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار سے 31 جنوری کو ایک اور لیٹر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بھجوایا کہ ڈاکٹر قمر رباب کے خلاف انکوائری پینڈنگ ہے جبکہ جس 43ویں سینڈیکیٹ میں یہ انکوائری ڈالی گئی تھی وہ سینڈیکیٹ خود ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی دھوکہ دہی کے باعث غیر قانونی قرار دے کر ختم کر دی گئی تھی۔ جس کے بارے میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خط بھی لکھا تھا کہ ذمہ داران کیخلاف انکوائری کی جائے۔ مگر تاحال ڈاکٹر کلثوم پراچہ پر وہ انکوائری بھی نہ کی جا سکی کیونکہ تمام تر پرنسپل افسران ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے عارضی تعینات کردہ تھے۔ تاحال یونیورسٹی کے ایڈیشنل چارج وائس چانسلر کے حوالے سے ڈاکٹر شازیہ انجم، وائس چانسلر گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کا نام زیر گردش ہے۔ مگر یونیورسٹی فیکلٹی اور ملازمین اس صورتحال سے بھی بہت پریشان ہیں کہ اگر ڈاکٹر شازیہ انجم کو چارج دے دیا جاتا ہے تو بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ڈاکٹر شازیہ انجم سے تعلقات کی وجہ سے یونیورسٹی کے معاملات ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہی چلائیں گی۔ یونیورسٹی ٹیچرز اور ملازمین کا سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ٹینیور کے اختتام کے ساتھ ہی عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کو فوری طور پر اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو یونیورسٹی معاملات سے دور رکھیں اور عارضی خزانچی ڈاکٹر طاہرہ یونس ٹینیور کے اختتام کے ساتھ ہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے کسی بھی غیر قانونی بلز کو منظور نہ کریں۔ اور اسی طرح عارضی کنٹرولر ڈاکٹر حنا علی کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو کسی بھی قسم کے ڈگری معاملات میں مداخلت نہ کرنے دیں۔ کچھ سال قبل بھی وفاق کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے 2017 میں جب چارج نہ چھوڑا تھا تو انتظامی ادارے نے اس وقت کے آر پی او کو لیٹر لکھا تھا کہ سابقہ وائس چانسلر کو ان کے دفتر سے نکالا جائے اور پھر پولیس کی موجودگی میں وہ دفتر خالی کروایا گیا تھا۔ بعد ازاں غیر قانونی ساتھ دینے کی پاداش میں رجسٹرار کو بھی ملازمت سے بر طرفی سمیت فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔







