خواتین یونیورسٹی: رخصتی قریب، جعلی وی سی گھبرا گئیں، فیکلٹی پر غصہ، ٹائمنگ کٹوتی احکامات

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی عارضی، غیر قانونی، غیر اخلاقی ، جعلی اور ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے جعلی تجربے، میٹرک کی سند پر 32 سال بعد تاریخ پیدائش میں تبدیلی، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ملتان بورڈ کو بیوقوف بنانے کے واقعات منظر عام پر آنے کا غصہ خواتین فیکلٹی پر نکال دیا۔ 2 سال تک چپ رہنے والی خواتین یونیورسٹی ملتان کی جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو یونیورسٹی میں نئی وائس چانسلر کی تعیناتی کے قریب آتے ہی یونیورسٹی کے اوقات کی پابندی اور آڈٹ پیرے کی آڑ میں سختی یاد آ گئی۔ انہوں نے اخبارات میں ثبوت کے ساتھ لگنے والی خبروں کا ملبہ خواتین فیکلٹی اور ایڈمن سٹاف پر ڈالنا شروع کر دیا۔ تازہ ترین نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے یونیورسٹی ٹائمنگ 8:30 سے 4:30 کر دی۔ اس بارے میں انہوں نے سختی سے ہدایات جاری کیں کہ جو فیکلٹی ممبر لیٹ آئے تو ان کی تنخواہوں میں کٹوتیاں کی جائیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ اسلامیات ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ بات پوری یونیورسٹی میں زبان زد عام ہے کہ جب ڈاکٹرکلثوم پراچہ خود فیکلٹی کاحصہ تھیں تو اسلامیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر قدسیہ خاکوانی ان کو اگر کسی کام کا بولتی تھیں تو یہ سوموار سے جمعرات 2 بجے کام مکمل کئے بغیر رکشے پر گھر چلی جاتی تھیں کہ میرے شوہر میرے ہاتھ کی روٹی کھاتے ہیں۔ جمعہ کے روز 12 بجے گھر جاتی تھیں کہ مجھے اپنے شوہر کے پیچھے جمعہ پڑھنا ہوتا ہے۔ خود ٹیچر ہوتے ہوئے انہوں نے کبھی بھی ٹائمنگ کی پابندی نہیں کی۔ 2 سال تک روزانہ ٹی اے ڈی اے بنانے کی خاطر دوسرے شہروں کی یونیورسٹیوں کے وزٹ کے بعد اب اچانک ان کےغیر قانونی کام اور کرپشن سامنے آنے کے بعد انہوں نے فیکلٹی پر سختی شروع کر دی۔ خواتین فیکلٹی ممبران کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ہماری زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ہم لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ ہم خواتین اپنے لیکچرز بھی پورے پڑھاتی ہیں۔ سیمینار اور دوسرے ایڈمنسٹریٹو کام بھی پورے کرتی ہیں۔ اس کے باوجود اس طرح سے ذہنی اذیت دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم نے اپنا گھر بھی چلانا ہوتا ہے۔ بچوں کو بھی دیکھنا ہوتا ہے، اس صورتحال میں ہمیں گارڈز کے ہاتھوں ٹائمنگ نوٹ کروا کر اور لیٹ آنے کی صورت میں ویڈیو بنوانا سراسر زیادتی ہے ۔ یہ ہم پردہ دار خواتین کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔علاوہ ازیں رجسٹرار آفس کے محمد شفیق کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے مستعفی ہونے والی خزانچی کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ اس وقت یونیورسٹی میں تنہا ہو چکی ہیں اور کوئی بھی ان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ خزانچی کو تمام غیر قانونی کاموں میں ساتھ دینے کے لیے مجبور کریں گی۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ ہیں جنہوں نے پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر دھوکہ دہی سے ملازمت شروع کی جبکہ سینڈیکیٹ کی منظوری کے مطابق کسی پرائیویٹ کالج کا تجربہ ویسے ہی شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح دھوکہ دیتے ہوئے انہوں نے میٹرک کی سند پر 32 سال بعد گورنمنٹ ملازمت کے بعد تاریخ پیدائش تبدیل کروائی اور چونکہ ملتان بورڈ کے قانون کے مطابق 14 سال میں میٹرک ہو سکتی ہے تو دھوکہ دہی کی ماہر کاریگر جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر پراچہ نے 14 سال اور 15 دن کی میٹرک پر تاریخ پیدائش تبدیل کروا لی۔ پھر انہوں نے گرینڈ گالا کے نام پر لاکھوں کی کرپشن کی اور ایک بھی پیسہ خزانے میں جمع نہیں کروایا۔

نئی وی سی تعیناتی سے قبل انٹرنل آڈٹ کمیٹی کی تشکیل، سوالات اٹھ گئے

ملتان (سٹاف رپورٹر)خواتین یونیورسٹی ملتان میں وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے نئی وائس چانسلر کی تعیناتی کا انتظار کیے بغیر ایک مرتبہ پھر انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انٹرنل آڈٹ کمیٹی ازسرِنو تشکیل دے دی ہےجس پر تعلیمی و انتظامی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر EST-41/WUM/25-17/0 بتاریخ 18 دسمبر 2025 کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے سینڈیکیٹ کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کے تحت نئی انٹرنل آڈٹ کمیٹی قائم کی جس میں وہ خود کنوینر مقرر ہوئیں جبکہ سائیکالوجی کی ڈاکٹر سعدیہ مشرف، ایڈیشنل خزانچی ڈاکٹر عشرت ریاض، سوشیالوجی کی ڈاکٹر مدیحہ اکرم، ماس کمیونیکیشن کی ڈاکٹر دیبا شہوار، ریزیڈنٹ آڈیٹر علی مرتضیٰ اور اسسٹنٹ خزانچی رضوان احمد کو بطور ممبران شامل کیا گیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن اس سے قبل جاری کردہ 16 اکتوبر 2025 کے نوٹیفکیشن کو منسوخ قرار دیتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جب یونیورسٹی میں نئی وائس چانسلر کی تعیناتی متوقع ہے تو ایسے میں ایک نہایت اہم اور حساس کمیٹی کی تشکیل کرنا ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جلد بازی اور اختیارات سے چمٹے رہنے کی واضح مثال قرار دی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انٹرنل آڈٹ کمیٹی براہِ راست مالی نظم و ضبط اور آڈٹ پیراز سے متعلق ہوتی ہے، اور ایسی کمیٹی کا قیام آئندہ آنے والی انتظامیہ کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کے ایک حلقے کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو چاہیے تھا کہ وہ عبوری حیثیت میں رہتے ہوئے صرف روزمرہ امور تک خود کو محدود رکھتیں، نہ کہ مستقبل کی انتظامیہ کے اختیارات پر اثر انداز ہونے والے فیصلے کرتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار کمیٹیوں کی تشکیل اور خود کو کنوینر مقرر کرنا شفافیت کے دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ پہلے ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے یہ افواہ چھوڑی کہ چانسلر و گورنر پنجاب اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ مکمل طور پر ان کے ساتھ ہیں۔ اب ایک اور اہم ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ملازمین کو کنٹرول کرنے کے لیے اب ایک نئی افواہ چھوڑ دی ہے کہ نئی وائس چانسلر کی تعیناتی پر اسٹے ہو چکا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین یونیورسٹی ملتان میں ہونے والے اس طرح کے فیصلوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور نئی وائس چانسلر کی تعیناتی تک ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو پالیسی نوعیت کے فیصلوں سے روکا جائے، تاکہ ادارے میں مزید انتظامی انتشار پیدا نہ ہو۔

شیئر کریں

:مزید خبریں