خواتین یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی بلیک میلنگ، تھیسز منظوری کیلئے ہزاروں روپے طلب

ملتان (سٹاف رپورٹر) اعلیٰ تعلیم کے مقدس اداروں میں اخلاقی زوال کی ایک اور افسوسناک داستان سامنے آگئی ہے جہاں طالبات کے مستقبل سے کھلواڑ کرتے ہوئے بعض اساتذہ مبینہ طور پر تعلیم کو کھلے عام کاروبار میں تبدیل کر چکے ہیں۔ جنرل یونیورسٹیوں میں کرپشن کے چرچے تو عام تھےمگر اب خواتین یونیورسٹیوں میں بھی اس طرح کے سنگین الزامات نے تعلیمی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ روزنامہ قوم سے گفتگو کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کی ایک متاثرہ طالبہ نے انکشاف کیا کہ ایک خواتین یونیورسٹی کی ٹیچر نے ایم فل تھیسز کی منظوری کے نام پر ہزاروں روپے کا مطالبہ کیا۔ طالبہ کے مطابق میں غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، میں نے اپنی سپروائزر سے درخواست کی کہ میں اتنے پیسے نہیں دے سکتی مگر مجھے صاف الفاظ میں دھمکی دی گئی کہ اگر رقم ادا نہ کی تو میرے تھیسز میں توسیع ڈال دی جائے گی، جس سے ایک مزید سمسٹر کی فیس دینا پڑے گی یوں رقم وہیں پوری ہو جائے گی۔ یہ انکشاف صرف مالی بلیک میلنگ تک محدود نہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک سینئر پروفیسر اور چیئرپرسن نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نیا ’’تحفہ کلچر‘‘متعارف کروا رکھا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک وزٹنگ ٹیچر کو ہر سمسٹر کے آغاز پر مہنگے برانڈ’’بریزے‘‘کے سوٹ بطور نذرانہ پیش کرنا پڑتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سوٹ نہ دیا جائے تو اچانک یہ بہانہ سامنے آ جاتا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ میں گنجائش نہیں لیکن جیسے ہی تحفہ پہنچتا ہے، تمام رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ادھر ایک اور چونکا دینے والا انکشاف ایک دوسری خواتین یونیورسٹی سے سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون ٹیچر بیک وقت ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکیجز اور انکیوبیشن سینٹر کی ایڈیشنل ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ الزام ہے کہ بیرونی فنڈنگ، ڈونیشنز اور کانفرنس فیسز کو سرکاری اکاؤنٹس میں جمع کروانے کے بجائے مخصوص افراد کے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیا جاتا رہا۔ ذرائع کے مطابق انہی مبینہ غیر قانونی رقوم سے ایک نئی قیمتی گاڑی بھی خریدی گئی۔ یہ نہ صرف طالبات کے مستقبل سے کھلواڑ ہے بلکہ پورے تعلیمی نظام پر ایک بدنما داغ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خواتین کے لیے بنائے گئے محفوظ تعلیمی ادارے بھی اب استحصال کا مرکز بنتے جا رہے ہیں؟ یہ تمام انکشافات فی الحال بغیر نام کے شائع کیے جا رہے ہیں تاکہ متعلقہ خواتین کی ذاتی عزت اور وقار کو نقصان نہ پہنچے، تاہم مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فوری نوٹس لے اور ایک شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لائے۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ رجحان نہ صرف مزید پھیلے گا بلکہ تعلیم جیسے مقدس پیشے پر عوام کا اعتماد بھی مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں