ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی ایک اور محنت رنگ لے آئی اور خواتین یونیورسٹی ملتان میں انتظامی بدنظمی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے بالآخر وہی ہوا جس کی نشاندہی روزنامہ قوم مسلسل کرتا رہا۔ ذرائع کے مطابق روزنامہ قوم نے کئی روز سے یہ انکشاف کیا تھا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ جو 16 مارچ کو بطور پرو وائس چانسلر اپنے عہدے کی مدت پوری کر رہی تھیں ان کی جانب سے 28 مارچ 2026 کو کانووکیشن منعقد کروانے کی تیاریاں نہ صرف غیر قانونی بلکہ انتظامی اصولوں کے بھی سراسر خلاف ہیں۔ روزنامہ قوم نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا تھا کہ عہدہ چھوڑنے کے بعد کسی بھی سابقہ افسر کے لیے اس نوعیت کی بڑی تقریب منعقد کروانا ممکن نہیں تاہم اس کے باوجود ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر اس معاملے کو اچھالتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ہر صورت کانووکیشن کروا کر رہیں گی۔ ان بیانات نے نہ صرف تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کی بلکہ یونیورسٹی کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام صورتحال اس وقت مزید مشکوک ہو گئی جب 16 مارچ کو عہدہ چھوڑنے کے باوجود پس پردہ مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ بالآخر 25 مارچ 2026 کو خواتین یونیورسٹی ملتان کی عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کی جانب سے ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں 28 مارچ کو ہونے والا 8واں کانووکیشن’’ناگزیر انتظامی وجوہات‘‘کی بنیاد پر غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 28 مارچ 2026 کو منعقد ہونے والا 8واں کانووکیشن فی الحال مؤخر کیا جاتا ہے، نئی تاریخ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے بعد میں جاری کی جائے گی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اندرونی ذرائع اس فیصلے کو بھی سابقہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی مشاورت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یونیورسٹی میں اختیارات کی غیر رسمی مداخلت اور’’پس پردہ کنٹرول‘‘ کا کلچر کس قدر مضبوط ہو چکا ہے۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے اس تمام صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ ایک مدت پوری کرنے والی افسر کس حیثیت میں اہم انتظامی فیصلوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں احتساب کے فقدان کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزنامہ قوم کی مسلسل نشاندہی کے بعد کانووکیشن کا ملتوی ہونا اس بات کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے کہ بروقت صحافتی دباؤ نے ایک ممکنہ غیر قانونی اقدام کو رکوا دیا، تاہم اصل سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا یونیورسٹیوں میں فیصلے قواعد کے تحت ہوں گے یا شخصیات کے زیر اثر؟۔

سابق وی سی کا گینگ ملازمین کو ہراساں کرنے لگا، توہین آمیز پوسٹس، 80 اساتذہ کرپٹ قرار
ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی سابق پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے متنازع دورِ اقتدار کے اثرات ان کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی ختم نہ ہو سکے۔ خواتین یونیورسٹی ملتان کی خواتین فیکلٹی اور آفیسرز کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنا ٹینیور اس انداز میں مکمل کیا کہ فیکلٹی اور ملازمین کو انتہائی کرب و تکلیف میں رکھنے کے لیے ایک مخصوص گروپ تشکیل دیا اور اب یہی گروپ یونیورسٹی کے معاملات پر بدستور اثر انداز ہو رہا ہے۔ یونیورسٹی کی خواتین ٹیچرز کے مطابق حیران کن طور پر ان کے جانے کے بعد بھی یونیورسٹی کے آفیشل فیس بک پیج کو عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہےجہاں مختلف پوسٹس کے ذریعے ادارے کے ملازمین کے خلاف غیر اخلاقی بلکہ توہین آمیز زبان استعمال کی گئی۔ یہ عمل نہ صرف ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ انتظامیہ کی غیر ذمہ داری کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ ٹیچرز اور آفیسرز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنی لائی ہوئی ٹیم خصوصاً رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر دیبا شہوار ان کے احسانات تلے دبی ہوئی ہیں اور اسی دباؤ کے تحت متعدد غیر قانونی اقدامات، نوٹیفکیشنز اور پروموشنز پر بلا چون و چرا دستخط کرتی رہی ہیں۔ مزید انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ کچھ ملازمین کی پروموشنز روک کر ان کے خلاف منفی ریمارکس درج کیے گئے اور جب متعلقہ افراد نے وضاحت مانگی تو انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ ’’آپ کی اے سی آر درست نہیں ہے‘‘۔ دوسری جانب فیکلٹی میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ان کو ان معاملات کا علم ہی نہیںاور تمام فیصلے سابق پرو وائس چانسلر اور ان کے قریبی ساتھی محمد شفیق کرتے رہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جب اس معاملے پر ڈاکٹر دیبا شہوار سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فیس بک پیج سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں یہ پیج نہیں چلا رہی‘‘۔ ایک ایسے وقت میں جب یونیورسٹی میں وائس چانسلر موجود نہ ہو، رجسٹرار کا اس قسم کا بیان دینا نہ صرف انتظامی ناکامی بلکہ مکمل بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کی عدم موجودگی میں تمام انتظامی ذمہ داری رجسٹرار پر عائد ہوتی ہےاور اس صورتحال میں کنٹرول نہ ہونا انتہائی خطرناک علامت ہے۔ ذرائع کے مطابق جب انہیں اس ذمہ داری کا احساس دلایا گیا تو وہ کسی بھی واضح جواب دینے سے گریز کرتی رہیں۔ یہ تمام صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ خواتین یونیورسٹی ملتان میں انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہےاور سابقہ قیادت کا سایہ اب بھی ادارے پر منڈلا رہا ہےجس کے باعث شفافیت، میرٹ اور پیشہ ورانہ اصول بری طرح پامال ہو رہے ہیں۔ اس بارے میں خواتین یونیورسٹی ملتان کی ترجمان کا کہنا تھا کہ خواتین یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ نے حالیہ سامنے آنے والے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ترجمان کے مطابق یونیورسٹی کی قیادت ہمیشہ ادارے اور ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی رہی ہے۔تمام فیصلے مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور قواعد و ضوابط کے تحت بلا امتیاز کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی فرد یا گروہ کو ذاتی بنیادوں پر نہ کوئی رعایت دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی جانبداری برتی جاتی ہے۔مزید برآں یونیورسٹی کے آفیشل فیس بک پیج اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز شعبہ تعلقاتِ عامہ کی باقاعدہ نگرانی میں چلائے جاتے ہیں، جہاں صرف ادارے کی تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی کامیابیوں اور مثبت سرگرمیوں کو اجاگر کیا جاتا ہےتاکہ مستند اور ذمہ دارانہ معلومات ہی عوام تک پہنچیں۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ ادارے میں ہر سطح پر میرٹ شفافیت اور ادارہ جاتی مفاد کو اولین ترجیح دی جاتی ہےجبکہ تمام ملازمین کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا اور خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ گزشتہ روز 80 ٹیچرز اور سٹاف جس میں آپ بھی شامل ہیں کو کرپٹ ثابت کر کے ان کے غیر قانونی انکریمنٹس کی بابت پوسٹ یونیورسٹی کے آفیشل فیس بک پیج پر لگائی گئی اور اس میں کسی بھی قسم کی تحقیقی، انتظامی سر گرمی کا ذکر نہ تھا اور آپ لوگ کیوں ایک سابقہ پرو وائس چانسلر کے دباؤ میں ہیں کہ آپ کی عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار اور آپ خود تعلقات عامہ کی نمائندہ ہو کر سیرت کانفرنس کے پیسے ہڑپ کرنے والی ایک پروفیسر کی خوشنودی کی خاطر 80 ملازمین و ٹیچرز کو یونیورسٹی کے آفیشل فیس بک پیج پر کرپٹ لکھ کر ریکوری کی دھمکیاں دے رہی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ دعا کریں کہ جلد از جلد نئی وائس چانسلر آ جائے تاکہ معاملات ٹھیک ہو جائیں۔






