آج کی تاریخ

خزانے کو ڈیڑھ کروڑ کا ٹیکہ لگانے والے شہباز کی پرواز، محافظ خانہ انچارج تعینات

بہاولپور (کرائم سیل) احمد پور شرقیہ محکمہ ریونیو جعلی سی پی آر سکینڈل،264 انتقالات میں جعلی سی پی آر لگا کر ایف بی آر کی مد میں حکومتی خزانے کو ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے والے شہباز حسن نائب تحصیلدار کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے بہاولپور میں ایک اہم سیٹ محافظ خانہ پر انچارج لگا دیا گیا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ نائب تحصیلدار نے اپنی تعیناتی کے دوران احمد پور شرقیہ میں حلقہ پٹواریوں کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے ایف بی آر کے جعلی سی پی آر لگا کر مختلف انتقالات منظور کروائے۔ اس کے خلاف انکوائری ہوئی اور صوبائی محتسب اعلیٰ نے انہیں قصور وار قرار دے کر کارروائی کی سفارش کی ساتھ ہی گزشتہ پانچ سالوں میں مختلف تحصیلوں کے انتقالات کے ریکارڈ کے آڈٹ کی بھی ہدایت کی۔تاہم بااثر اور سیاسی پشت پناہی رکھنے والے شہباز حسن کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں ضلع بہاولپور میں محافظ خانہ کا انچارج بنا دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے پٹواری حلقہ کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے ایف بی آر کی جعلی رسیدیں لگا کر متعدد انتقالات منظور کیے، لیکن انکوائری کے دوران اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ اور ڈی سی بہاولپور نے بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ نہ ہی صوبائی محتسب کے احکامات پر عمل درآمد کیا گیا۔ریونیو ذرائع کے مطابق 1937 سے پہلے کا ریکارڈ بھی اس محافظ خانے میں موجود ہے۔ روزنامہ قوم کو دستیاب ریکارڈ کے مطابق صوبائی محتسب اعلیٰ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ شہباز حسن نے احمد پور شرقیہ کی تحصیل میں جعلی سی پی آر لگا کر 264 انتقالات منظور کیے، جس سے حکومت پاکستان کو تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔انکوائری میں یہ بھی لکھا گیا کہ اگر ضلعی افسران اور اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ صوبائی محتسب کے احکامات پر عمل کرتے تو نہ صرف حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوتی بلکہ خزانے میں بڑی رقم واپس جمع ہوسکتی تھی۔حیران کن امر یہ ہے کہ اس تمام تر نشاندہی کے باوجود کمشنر ایف بی آر بہاولپور اور ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نے بھی شہباز حسن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ کرپٹ ریونیو افسر کو ایک ایسی اہم سیٹ پر تعینات کر دیا گیا ہے جہاں قیمتی ریکارڈ موجود ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موصوف اب اس ریکارڈ میں ردو بدل کر کے لاکھوں روپے بٹور سکتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں