خانیوال(نامہ نگار)خانیوال میں سیوریج اور صنعتی زہریلے پانی سے سبزیوں اور گندم کی کاشت کا انسانیت سوز انکشاف ضلعی انتظامیہ بلدیہ اور محکمہ فوڈ کی مبینہ غفلت سے شہری زہریلی خوراک استعمال کرنے پر مجبور خانیوال شہر اور اس کے گرد و نواح میں سیوریج کے گندے اور مختلف صنعتوں سے خارج ہونے والے زہریلے پانی سے سبزیوں اور گندم کی کاشت کا سنگین اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے ضلع انتظامیہ بلدیہ خانیوال اور محکمہ فوڈ کی مبینہ غفلت اور چشم پوشی کے باعث شہری صاف اور محفوظ خوراک کے بجائے غلاظت سے اگائی گئی سبزیاں استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس کے نتیجے میں علاقے میں مختلف خطرناک اور مہلک بیماریاں تیزی سے پھیلنے لگی ہیں تفصیلات کے مطابق خانیوال شہر کے علاقوں گھوڑی پال مربع نیو لاری اڈا عزیز آباد پھاٹک سے سمال انڈسٹری پھاٹک تک سمال انڈسٹری ایریا اور دیگر ملحقہ علاقوں میں 4 مربع سے زائد زرعی اراضی پر آلو پیاز پھول گوبھی بند گوبھی ٹماٹر گاجر شلجم پالک میتھی لہسن چقندر اور گندم سمیت مختلف سبزیوں کو سیوریج اور صنعتی فضلے سے بھرپور زہریلے پانی سے سیراب کیا جا رہا ہے زرعی ذرائع کے مطابق بعض کسان کم وقت میں زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے کھاد کے بجائے سیوریج کے پانی کا استعمال کر رہے ہیں اس طریقۂ کاشت سے سبزیاں معمول کے تین ماہ کے بجائے محض دو ماہ میں تیار ہو جاتی ہیں جبکہ پیداوار بھی روایتی کاشت کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے تاہم ماہرین کے مطابق ایسی سبزیاں غذائیت کے بجائے زہر کا درجہ رکھتی ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں روزنامہ قوم کی ٹیم کو رپورٹنگ کے دوران علاقہ مکینوں نے بتایا کہ عرصہ دراز سے سیوریج کے گندے پانی سے سبزیاں اور گندم کاشت کی جا رہی ہیں علاقہ مکینوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کہ رانا اشفاق نامی ایک ٹھیکیدار مبینہ طور پر سیوریج کا گندا پانی 900 سے 1000 روپے فی گھنٹہ کے حساب سے فروخت کرتا ہے ذرائع کے مطابق رانا اشفاق کو بلدیہ خانیوال کے بعض افسران کا مبینہ طور پر کماؤ پتر قرار دیا جاتا ہے جس کے ذریعے فی گھنٹہ کے حساب سے سیوریج کا پانی فروخت کر کے بھاری رقوم کمائی جا رہی ہیں مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ کم بولی میں ٹھیکہ حاصل کر کے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے بلکہ بلدیہ کے بعض افسران اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں ذرائع نے مزید بتایا کہ بلدیہ خانیوال کے پاس سیوریج کے پانی کو فلٹر کرنے کے لیے فلٹر پوائنٹ موجود ہونے کے باوجود پانی کو فلٹر نہیں کیا جا رہا بغیر کسی صفائی یا ٹریٹمنٹ کے یہی پانی کھیتوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے جو براہِ راست سبزیوں اور اناج میں زہریلے کیمیکلز بھاری دھاتوں اور جراثیم کی منتقلی کا سبب بن رہا ہےطبی ماہرین کے مطابق سیوریج اور صنعتی فضلے سے اگائی گئی سبزیوں کے مسلسل استعمال سے شہریوں میں مندرجہ ذیل بیماریاں جنم لے رہی ہیں ہیپاٹائٹس A اور E گندے پانی میں موجود وائرس جگر کو شدید متاثر کرتے ہیں پیٹ اور آنتوں کے امراض دست قے پیٹ درد اور آنتوں کے انفیکشن جلدی بیماریاں خارش الرجی دانے اور فنگل انفیکشن گردوں اور جگر کو نقصان بھاری دھاتیں گردوں کو فیل کر سکتی ہیں کینسر کا خطرہ طویل عرصے تک زہریلی سبزیوں کے استعمال سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد پر اس زہریلی خوراک کے اثرات انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ فوڈ بلدیہ خانیوال اور ضلعی انتظامیہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے نہ تو سبزیوں کے سیمپل لیے جا رہے ہیں اور نہ ہی کھیتوں میں استعمال ہونے والے پانی کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے شہریوں اور سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب چیف سیکرٹری پنجاب کمشنر ملتان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیا جائے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے سیوریج کے پانی کی فروخت کا مکروہ دھندا بند کرایا جائے اور شہریوں کو زہریلی سبزیوں سے نجات دلائی جائے اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش زہر آنے والی نسلوں کی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔







