خاموش آوازیں اور سندھ پولیس کا تشدد

کراچی پریس کلب کے باہر عورت مارچ کی کارکنان، صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہمارے سماجی اور سیاسی ماحول کی ایک بے آواز مگر شدید گواہی ہے۔ یہ ایک ایسی گواہی ہے جو بتاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اختلاف، سوال اور صدائے احتجاج کو اب بھی پوری طرح قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ دو بلوچ نوجوان لڑکیوں—نسرین بلوچ اور مہجبین بلوچ—کی گمشدگی پر محض ایک پریس کانفرنس کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری، راستوں کی بندش، خواتین کارکنان کے ساتھ تکرار اور صحافیوں کی راہ میں رکاوٹیں اس حقیقت کا اظہار ہیں کہ ریاستی نظم و نسق اب بھی بات سننے کے بجائے فضا کو قابو میں رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔پریس کلب کے دروازے وقتاً فوقتاً مختلف گروہوں کے لیے بند کیے جاتے رہے ہیں، کبھی پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لیے، کبھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لیے، اور اب عورت مارچ کے لیے۔ اس سلسلے کا تسلسل بتاتا ہے کہ ہمارے اداروں میں اختلاف اور احتجاج کو ’’کچھ دیر کو روک لینے‘‘ کا رویہ معمول بن چکا ہے۔ مگر سماجی رویوں میں جو تبدیلیاں آہستہ آہستہ ابھر رہی ہیں، وہ یہ سوال ضرور اٹھاتی ہیں کہ کیا اس طرح کے اقدامات واقعی مسائل کو ختم کرتے ہیں یا صرف وقتی طور پر اوجھل کر دیتے ہیں؟شیما کرمانی جیسی معتبر فنکارہ اور سماجی کارکن کے ساتھ پولیس کا تلخ لہجہ ہو یا صحافیوں کو راستہ نہ دینے کا طرزِ عمل — یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے اندر عدم برداشت کی ایک تہہ قائم ہے جسے ہم نے ایک سسٹم کی شکل دے دی ہے۔ ایسے مواقع پر یہ بھی سامنے آتا ہے کہ اداروں اور شہریوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریاں کیسے بڑھتی ہیں۔ جب سوال کرنے والوں کو محض اس وجہ سے روک دیا جائے کہ ان کے سوال کسی غیر آرام دہ حقیقت کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں، تو فضا میں ایک خاموش بے اعتمادی جنم لیتی ہے۔عورت مارچ کی کارکنان نے اپنی پریس کانفرنس میں جو نکات اٹھائے، وہ محض ایک تنظیم کی آواز نہیں بلکہ بلوچ خواتین کے دیرینہ دکھوں کا اظہار تھے۔ مہجبین کی گمشدگی کے سات ماہ گزر چکے ہیں اور نسرین جیسی کم عمر بچی کے بارے میں سوالات ابھی تک جواب کے منتظر ہیں۔ ایسے معاملات میں خاموشی یا تاخیر خود بخود خدشات، بے چینی اور بداعتمادی کو بڑھا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے وہ لوگ جو پہلے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کرتے تھے، اب سوال اٹھانے لگے ہیں کہ آخر ان نوجوان لڑکیوں کے گھر والوں کو کیوں ہر دروازے پر بے یقینی کا سامنا ہے۔اس واقعے نے ایک اور پہلو بھی واضح کیا ہے — شہری فضا میں بڑھتا ہوا خوف۔ جب کسی پریس کانفرنس کے انعقاد پر پولیس کی اس قدر موجودگی ہو، جب صحافی اپنی شناخت بتانے کے باوجود اندر داخل نہ ہو سکیں، اور جب کارکنان اپنے ہی شہر میں اجنبیوں کی طرح راستہ مانگتے نظر آئیں تو ماحول میں ایک انجانی گھٹن پیدا ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں سماج خود کو کھلا، پُراعتماد اور جمہوری محسوس نہیں کرتا بلکہ محتاط، سمٹا ہوا اور غیر یقینی۔یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ کراچی جیسے شہر میں جہاں پریس کلب ہمیشہ سے آزادیِ اظہار کی علامت رہا ہے، وہاں اس طرح کے واقعات شہریوں اور اداروں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں کو گہرا کر دیتے ہیں۔ صحافی زوفین ابراہیم کا یہ کہنا کہ ’’یہ میرے شہر کو کیا ہو رہا ہے؟‘‘ دراصل ایک وسیع تر احساس کی ترجمانی ہے جو اس شہر کے باسی بہت عرصے سے محسوس کر رہے ہیں۔بلوچ خواتین کی جانب سے بارہا یہ وضاحت سامنے آ چکی ہے کہ ان کا کسی مسلح گروہ سے کوئی تعلق نہیں، پھر بھی انہیں شک کی نظر سے دیکھا جانا اور ان کے سوالات کو خطرہ سمجھنا ایک ایسا رویہ ہے جو غیر ضروری تناؤ پیدا کرتا ہے۔ معاشروں میں سوالات دبائے جائیں تو مسائل ختم نہیں ہوتے، صرف اندر ہی اندر بڑھتے جاتے ہیں۔پریس کلب کے باہر موجود پولیس اہلکاروں اور اندر پریس کانفرنس کرنے والی خواتین کے درمیان فاصلہ محض جسمانی نہیں تھا؛ یہ ایک ذہنی اور جذباتی فاصلہ بھی تھا۔ ایک طرف خوف، انتظامی سختی اور ’’نظم و ضبط‘‘ کا تصور تھا، اور دوسری طرف دکھ، بے بسی اور جواب تک رسائی کی طلب۔آج کے حالات میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہ ہے مکالمہ۔ ایسے مکالمے جن میں سوال کرنے والوں کو دشمن نہ سمجھا جائے، اور ادارے اپنے آپ کو جواب دہی کے دائرے سے باہر نہ سمجھیں۔ معاشرے کے اندر اختلاف کو برداشت کرنا، تنقید کی گنجائش رکھنا اور شہریوں کے دکھوں کو سننا مضبوط ریاستوں کی پہچان ہوتا ہے۔کراچی پریس کلب کے باہر جو کچھ ہوا، وہ شاید آنے والے وقتوں میں محض ایک واقعہ سمجھا جائے، مگر اس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان سوالات کا جواب دینا ضروری ہے — نہ صرف اس لیے کہ دو نوجوان لڑکیاں لاپتہ ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ہمارا معاشرہ اسی وقت آگے بڑھ سکتا ہے جب خوف اور خاموشی کے بجائے اعتماد اور مکالمہ اس کا حصہ بنیں۔یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختلاف اور سوال ہمارے معاشرے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی صحت مندی کی علامت ہوتے ہیں۔ اگر ان آوازوں کو جگہ ملتی رہے اور اگر سوال اٹھانے والے اپنے آپ کو محفوظ محسوس کریں تو معاشرے میں توازن اور پختگی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو شہر کو بھی پرسکون بناتا ہے اور ریاست کو بھی مضبوط ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں