مزید آئی پی پیز بھی بند کی جائیں صنعت کاروں کا مطالبہ
وفاقی حکومت نے بند کی جانے والی 5 آئی پی پیز کو تقریباً 72 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ ساڑھے 36 ارب 50 کروڑ روپے حبکو کو ادا کیے جائیں گے جبکہ روش پاور کو ساڑھے 15 ارب روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔اسی طرح اے ای ایس لال پیر کو 12ارب 80 کروڑ روپے اور اٹلس پاور کو 6 ارب روپے ادا کیے جائیں گے، صبا پاور کو ایک ارب روپے دیے جائیں گے۔بند کیے جانے والے ان تمام پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2400 میگاواٹ ہے۔
ادھر لاہور میں صنعت کاروں نے کہا ہے کہ مزید آئی پی پیز سے معاہدے منسوخ کیے جائیں تو بجلی دس روپے فی یونٹ مزید سستی ہو گی۔آئی پی پیز ایشو پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کے ریجنل چیئرمین ذکی اعجاز اور ایس ایم تنویر نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 2025 ہماری معیشت کی بہتری کاسال ہے، بلند شرح سود کی وجہ سے 27 ارب ڈالر کے برابر رقوم بنکوں میں پڑے ہیں ۔ شرح سود کم ہو گی تو سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔
ذکی اعجاز کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کا معاملہ بہت اہم ہے، ابھی صرف پانچ آئی پی پیز کا معاملہ طے ہوا ہے، مجموعی طور پر 102 آئی پی پیز ہیں۔ بغیر بجلی بنائے پانچ آئی پیز کو60ارب سالانہ مل رہے تھے۔ حکومت نے ان پانچ آئی پیز کے معاہدے منسوخ کردیے ہیں جس سے 71 پیسے فی یونٹ نرخ کم ہوں گے۔ یہ بڑی بچت نہیں ہے۔ ابھی بھی آئی پی پیز کو 1.1ٹریلین روپے اضافی دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مزید معاہدے منسوخ ہوں تو بجلی دس روپے فی یونٹ مزید سستی ہو گی۔تمام اخراجات کے ساتھ بجلی نرخ 26روپے فی یونٹ سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔جتنا جلدی ہو سکے آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی کریں۔ مہنگی بجلی سے صنعت بند ہو رہی ہے۔






