متحدہ وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور عید کے بعد اپوزیشن کا اتحاد کھل کر سامنے آئے گا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی معاشرہ نہیں چل سکتا، لیکن ہمیں آج بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، گھنٹوں انتظار کے بعد واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ عوام کا حکومت پر کوئی اعتماد باقی نہیں رہا۔ ان کے مطابق حکومت مسلسل غلط بیانی سے کام لے رہی ہے اور اگر ملک کو بچانا ہے تو حکمرانوں کو سچ بولنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عوام صرف بانی پی ٹی آئی پر اعتماد کرتے ہیں اور انہیں جیل سے نکالنا ضروری ہے، کیونکہ وہی ملک کو بحرانوں سے باہر نکال سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اپنے ہر اقدام میں بانی کے خوف میں مبتلا ہے، چاہے وہ پیکا ترمیم ہو یا چھبیسویں آئینی ترمیم۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جانا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ پیغام دیا جا سکے۔ انہوں نے اپوزیشن کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی کے لیے تمام جماعتوں کو اکٹھے ہونا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہمارا قانونی حق ہے، لیکن حکومت انہیں بلیک آؤٹ کر کے نجانے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔







