حکومتی پالیسیوں سے نالاں ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے تمام عہدے چھوڑ دیے
ڈاکٹر قیصر بنگالی نے حکومت کی رائٹ سائزنگ کمیٹی کے رکن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے رائٹ سائزنگ کمیٹی کی رکنیت کے علاوہ تین مختلف حکومتی کمیٹیوں کے عہدے بھی چھوڑنے کا اعلان کیا۔ وہ کفایت شعاری کمیٹی، رائٹ سائزنگ اور حکومتی اخراجات میں کمیٹی کے رکن تھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات کو کم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ معاشی صورت حال کی وجہ سے آئی ایم ایف اور دیگر ادارے قرضے دینے کو تیار نہیں ہیں جبکہ مہنگائی کی وجہ سے شہریوں کا گھریلو بجٹ تباہ ہوچکا اور لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔ قیصر بنگالی نے کہا کہ حکومت نے اخراجات میں کمی کے لیے اچھی کوششیں کیں، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے تینوں کمیٹیاں بڑی اہم ہیں اور تینوں نے اہم تجاویز بھی دیں جبکہ 70 سرکاری اداروں اور 17 سرکاری کارپوریشنز کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی۔
قیصر بنگالی نے کہا کہ اگر محکموں سے بڑے افسران کو ہٹایا جائے تو سالانہ 30 ارب کے اخراجات کم ہوجائیں گے جبکہ حکومت گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی نوکریاں ختم کررہی ہے جس سے معیشت مزید تباہی کی طرف جارہی ہے اور اس وقت پاکستانی معاشی صورت حال کے حساب سے وینٹی لیٹر پر ہے۔






