ملتان(سٹاف رپورٹر)پی ڈی ایم کی حکومت کے دو بڑے اتحادیوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں ملتان کی حد تک اختلافات اور زیادتی پسند و ناپسند اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ضلع ملتان کو حکومت پنجاب کے جاری کردہ فنڈز میں سے جہاں ایک روپیہ بھی ترقیاتی سکیموںکی مد میں نہیں ملا وہاں ضلع کونسل اور ملتان کارپوریشن کے پاس موجود کروڑوں کے فنڈز بھی منجمد ہیں اور شہری ترقی کیلئے قواعد و ضوابط کے مطابق ان کے استعمال کی اجازت صوبائی حکومت دیتی ہے جو کہ نہیں مل رہی اور اس وقت ضلع کونسل ملتان کے ایڈمنسٹریٹر ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامدسندھو(تبادلےسےپہلےتک) جبکہ بلدیہ ملتان کے ایڈمنسٹریٹر کمشنر ملتان جناب مریم خان فنڈز ہونے کے باوجود انہیں خرچ نہیں کر پا رہے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ اب دونوں اداروں کے بجٹ میں فنڈز کی بھی ایلوکیشن ہو چکی ہے اور پارلیمانی جنگ کی وجہ سے یہ فنڈز بھی استعمال نہیں ہو رہے۔ اس طرح ملتان شہر اور شجاع آباد سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کی سزا ملتان کے 20 لاکھ سے زائد مکین بھگت رہے ہیں۔ سڑکیں تباہ ہیں اور کسی بھی قسم کا مرمت کا کام نہیں ہو رہا سوائے واسا کے فنڈز کے کسی بھی قسم کے فنڈز خرچ نہیں کئے جا رہے کہ لاہور سیکرٹریٹ سے اس کی اجازت نہیں مل رہی۔ یہ بھی حیران کن امر ہے کہ ملتان کارپوریشن اور ضلع کونسل کی طرف سے جمع شدہ فنڈز کے استعمال کی سرکاری ریکارڈ کےقواعد کے مطابق تو دونوں ایڈمنسٹریٹروں کے پاس خود مختاری ہے مگر آف دی ریکارڈ اجازت لاہور ہی سے ملتی ہے اور رہا جنوبی پنجاب ریجنل سیکرٹریٹ تو وہ مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔






