حکومت، فنکاروں کی بے حسی ، کامیڈی کنگ طارق ٹیڈی کے اہلخانہ غربت،فاقوں کا شکار ، قبر پر بسیرا

ماضی میں ہر وقت دم بھرنے والے فنکاروں،ہدایتکاروں،پروڈیوسرز اور رشتے داروں نے نامورکامیڈین کی وفات کے ایک سال بعد ہی منہ موڑ لیا

ہمارے ناز نخرے اٹھا نےوالےپہچاننے سے انکاری، سکول کی فیس بھی نہیں ،پیٹ بھرنے کیلئے دربدر ،کہیں ٹھکانہ نہ ملنےپروالدکی قبرپرآگئے:بیٹی

اپنے پیاروں کی قبر پر آنے والے شہری ترس کھا کر پیسے اور کھانا دے دیتے ہیں ورنہ کئی کئی روز تک بھوکے رہنا پڑتا ہے:دلخراش ویڈیووائرل

فن و ثقافت کے سرکاری محکموں، انسانی حقوق کے علمبرداروں ،ہر سال کروڑوں کھانےوالی تنظیموں،فنکاروں نے بے حسی کی چادر اوڑھ کر خاموشی اختیار کر لی

ملتان(سٹی رپورٹر)ماضی میں ہر وقت دم بھرنے والے فنکاروں،ہدایتکاروں،پروڈیوسرز اور رشتے داروں نے وفات کے ایک سال بعد ہی منہ موڑ لیا۔جس کے نتیجے میں سٹیج کی دنیا کے نامور کامیڈین طارق ٹیڈی مرحوم کے اہل خانہ غربت اور فاقوں کا شکار ہوگئے ہیں۔دنیا والوں کی اس بے حسی کے باعث فاقہ کشی سے دوچار بیٹیوں نے اپنے والد طارق ٹیڈی کی قبر کے گرد بسیرا کرلیا۔اس حوالے سے انکی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جس میں طارق ٹیڈی مرحوم کی بیٹیوں کا کہنا تھا کہ ان کے والد کے ارد گرد گھومنے والے فنکار، ہدایت کار، پروڈیوسر جو ہر وقت ان کے والد کا دم بھرتے تھے اور ہمارے ناز نخرے اٹھاتے تھے آج وہ انہیں پہچاننے سے ہی انکاری ہیں جبکہ رشتہ داروں نے بھی پوچھنا چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے ان کے گھر غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ فاقہ کشی کا عالم یہ ہے کہ سکول کی فیس بھی نہیں ہے اور وہ پیٹ بھرنے کے لیے دربدر ہو رہے ہیں۔ کہیں ٹھکانہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے والد کی قبر پر آگئے ہیں اور یہاں موسم سرما میں کھلے آسمان کے نیچے بے یارو مددگار رہ رہے ہیں۔ اپنے پیاروں کی قبر پر آنے والے شہری کبھی کبھار ترس کھا کر انہیں پیسے اور کبھی کھانا دے دیتے ہیں جس سے وہ اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں ورنہ کئی کئی روز تک بھوکے رہنا پڑتا ہے۔ طارق ٹیڈی کی بیٹیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے باوجود بھی فن و ثقافت کے لیے بنائے گئے سرکاری محکمے، انسانی حقوق کے علمبردار ہر سال کروڑوں روپے کھانےوالی تنظیموں اور ہر وقت طارق ٹیڈی کے ساتھ رہنے والے ملک کے نامور فنکاروں نے بے حسی کی چادر اوڑھ کر خاموشی اختیار کر لی اور یوں قہقہے بکھیرنے والے بڑے فنکار کی بیٹیوں کے کسی نے بھی آنسو نہ پونچھے اور نہ ہی کسی نے ان کی مالی معاونت کے لیے قدم بڑھایا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں