لودھراں پولیس نے عدالت سے نکلتے ہی دونوں کوگرفتار کرکے خفیہ مقام پر منتقل کر دیا، بچی کو اغوا کرتے وقت اسلحہ استعمال ہوا نہ بازیابی کے دوران
ذیشان اور کامران کے ورثا دونوں کے بارے میں مکمل لاعلم، پولیس مقابلے میں پار کر دینے کے خدشہ کا اظہار، ہائیکورٹ میں بھی رٹ دائر کر رکھی
وفاقی ادارے کا اہلکار،کانسٹیبل ہیکروں میں معاملات طے کرانے کیلئے سرگرم،مقدمہ جھوٹا ثابت ہونے کے وقت ڈی پی او لودھراں انعام وصول کرتے رہے
ملتان(سٹاف رپورٹر)عید کے روز 2 سالہ بچی حورین کے لین دین کے معاملے پر اغوا کی کہانی لین دین کا تنازعہ ثابت ہونے اور انسداد دہشت گردی کی ملتان میں موجود عدالت کے اس مقدمے میں تفتیشی نقائص اور تضاد کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں ملزمان کامران اور ذیشان کو احاطہ عدالت ہی میں ہتھکڑیاں کھلواکر بری کر دیا مگر لودھراں پولیس نے عدالت سے نکلتے ہی ان دونوں کوگرفتار کر لیا اور ان کی گرفتاری ناجائز اسلحہ کے مقدمہ میں ہوئی۔لودھراں پولیس نے انہیں کسی خفیہ مقام پر رکھا ہوا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ بچی ملزمان سے برآمد نہیں ہوئی بلکہ شاہراہ عام سے اس کا ملنا ظاہر کیا گیا۔ بتایا گیاہے کہ جنوبی پنجاب کے ہیکرز ان دونوں میں صلح کرا رہے ہیں کہ اگر یہ پنڈورا باکس کھلا تو سب کے لئے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ ایک وفاقی ادارے کا اہلکار بھی اس صلح میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے کہ ہیکروں کی اس رنجش کو ہر طریقے سے ختم کیا جا ئے ۔ ناجائز اسلحہ کے مقدمے کو یہ امر بھی مشکوک بناتاہے کہ دو سالہ بچی حورین کو جو شخص اٹھا کر گاڑی میں بیٹھ رہا ہے اس کے پاس کوئی اسلحہ نہ ہے اور پھر جب بچی بہاولپور میں سڑک کنارے سے کھڑی ملتی ہے تو بھی کوئی مسلح شخص وہاں موجود نہ تھا تو پھر محض اندازےہی سے اسلحہ رکھنےکی ایف آئی آر کیسے درج ہوگئی۔ بتایا گیا کہ لودھراں میںتعینات ایک پولیس کانسٹیبل کے ذریعے دونوں ہیکروں سے معاملات طے کئے جارہے ہیں جبکہ بہاولپور سے ذیشان اور کامران کے ورثا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے ساتھ پولیس مقابلے جیسا کوئی سنگین حادثہ نہ ہو جائے کیونکہ گزشتہ شام تک ان کے ورثا کو دونوں بارے کوئی علم نہ تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ذیشان اور کامران کے ورثا نے ہائیکورٹ میں بھی رٹ دائر کر رکھی ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس وقت نا قص تفتیش کی بنیاد پر اغوا برائے تاوان کا مقدمہ جھوٹا ثابت ہونے پر انسداد دہشت گردی کے جج ملزمان کو بری کر رہے تھے ۔ عین اس وقت ڈی پی او لودھراں کامران ممتاز آر پی او آفس ملتان اپنی شاندار ’’ کارکردگی‘‘ پر انعام وصول کر رہے تھے۔

عمیر اور اس کے چار گھروں میں سے ایک ہے






