حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

ان پانچ افراد کے درمیان کھڑے شخص کا نام پروفیسر عطا محمد کھوسہ ہے اور یہ گورنمنٹ کالج تونسہ کے پرنسپل ہونے کے ساتھ ساتھ تونسہ میں سب سے بڑی نجی تعلیمی اکیڈمی تعمیر ملت اکیڈمی کے نام سے’’تعلیم کا کاروبار‘‘ کر رہے ہیں۔ موصوف کی پچھلے دنوں فحش ویڈیوز جن میں موصوف مختلف طالبات کے ساتھ انتہائی قابل اعتراض اور برہنہ حالت میں اشارے کنائے فرما رہے ہیں، درد دل رکھنے والے ایسے والدین تک پہنچائی گئی جن کے ضمیر اس دور ریا میں بھی زندہ ہیں اور سلام ہے ان والدین کو جنہوں نے اس پر سٹینڈ لیا۔ ویڈیوز کو اخبارات اور دیگر حکام تک پہنچایا۔ حکومت کی تعلیمی اداروں میں بے راہ روی کے حوالے سے’’مٹی پاؤ پالیسی‘‘کے تحت محکمہ تعلیم نے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں ایک خاتون پروفیسر بھی شامل ہیں مگر مذکورہ خاتون پروفیسر کو یہ توفیق ہی نہ ہوئی کہ عورت ہونے کے ناطے مصدقہ ذرائع کے علاوہ ان طالبات سے بھی رابطہ کر لیا جاتا جو اس تعلیمی درندے کی بلیک میلنگ کا شکار ہوئی ہیں مگر مذکورہ خاتون پروفیسر کو تو یقینی طور پر بریف کرکے بھیجا گیا ہو گا لہٰذا انکوائری کمیٹی تو مٹی ڈالنے آئی تھی اور ڈال کے چلی گئی کیونکہ تعلیمی اداروں سمیت بہت سے سرکاری اداروں کے افسران کے تنخواہوں کے علاوہ سائر اخراجات یہی نجی ایجوکیشن مافیا ملک بھر میں اٹھا رہا ہے جو کہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اس سے سب آگاہ ہیں مگر خاموش اس لئے ہیں کہ سب سسٹم کا حصہ ہیں اور ویسے بھی کمزور و مجبور گھروں کی بیٹیوں کو تحفظ دینے سے ان بااختیاروں کا کیا سروکار اور کیا لینا دینا۔ ان طاقتوروں کی نشست و برخاست جن کے ساتھ ہے یہ تو انہیں ہی تحفظ دیں گے۔اس واقعے کو 10 روز گزر گئے۔ درجنوں آوازیں پروفیسر عطا محمد کھوسہ کے حق میں تو اٹھی مگر ان غیرت مند سرپرستوں کی ’’غیرت‘‘ بچیوں کیلئے نہیں جاگی بلکہ اخلاقی اقدار سے عاری بعض دانشوروں کا سوشل میڈیا پر طالبات کو قصوروار قرار دینے کا ڈھٹائی اور بے غیرتی پر مشتمل رویہ بھی سامنے آیا۔ شاید ایسے لوگوں کو ماں، بہن اور بیٹی کی حرمت کا اندازہ نہیں اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اس ملک میں خوف کی فضا میں بیٹیاں کس طرح تعلیم مکمل کرتی ہیں اور انہیں کس کس طریقے سے تعلیمی درندوں سے بلیک میل ہونے کے باوجود پردے رکھنے پڑتے ہیں کہ کہیں ان کے بے بس اور کمزور والدین ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ کرا دیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ابھی تک ایف آئی اے حرکت میں آئی اور انہوں نے موبائل قبضے میں لیا؟ کیا ایف آئی اے کے با اختیاروں نے ملازم خواتین کے ذریعے مذکورہ طالبہ سے رابطہ کرنے کی معمولی سی کوشش بھی کی؟ یقینی طور پر نہیں کیونکہ اگر کی ہوتی تو ایف آئی اے ك ملتان آفس کے سامنے یہ تصویر نہ بنتی جو چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ معاملات طے ہو چکےہیں اور ہر طرف خیر ہی خیر ہے، ڈھیل ہی ڈھیل ہے۔ اگر پوچھ گچھ کی گئی ہوتی تو منہ لٹکے ہوئے ہوتے اور اس طرح سے اکڑ کر تصویر نہ بنتی۔ یہ تصویر نہیں حضور ،یہ سسٹم پر زناٹے دار طمانچہ ہے، تازیانہ ہے اور کھلا پیغام ہے کہ اختیار والے نے اختیار والے کا ہی تحفظ کرنا ہے۔ یہ روز محشر، یہ حساب کتاب، یہ پوچھ گچھ، یہ منکر نکیر، یہ اعمال کا تولا جانا، جیسے’’عامیانہ‘‘ سوالات کم ہی طاقت اور اختیار والوں کو ان کے دور اختیار میں یاد آتے ہیں اور اگر’’خدانخوستہ‘‘یاد بھی آئیں تو ریٹائرمنٹ کے بعد۔ تاہم کسی ان سے بڑی ہستی یا پھر ان کے قریبی عزیزوں میں کوئی اس قسم کے حادثے کا شکار ہو جائے تو یقینی طور پر ایسی کسی صورت میں، کیونکہ اس ملک میں عزتوں کے حقدار اور امین تو صرف با اختیار ہی ہیں۔ رہا مظلوم تو وہ صرف دعا ہی دے سکتا ہے جس کی ان جملہ با اختیاروں کو، اس دور کے سیاستدانوں کو اور افسران کو فی الحال تو کوئی خاص ضرورت نہیں لہٰذااگلی’’فحش حرکات‘‘ تک انتظار فرمائیے۔ ( نوٹ از: چیف ایڈیٹر )

شیئر کریں

:مزید خبریں