ملتان(سٹاف رپورٹر)چولستان میں چنن پیر کے علاقے میں سابق اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے عملے کی طرف سے سڑک کے اطرف میں لیز پر اراضی کی نیلامی میں مبینہ طور پر گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے اور اولین بولی کے بعد جن جن سے ڈیل ہو گئی سرکاری ریکارڈ میں اس بولی میں دی گئی آفر کو چھ سے سات گنا کم ظاہر کر کے بقایا رقم آپس میں بانٹنے کا انکشاف ہوا ہے۔ سابق ا ےسی یزمان مجاہد عباس نے جودو مرتبہ یزمان ہی میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات رہے اور جن کا تعلق جھنگ سے ہے ،کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اوپن نیلامی کیلئے بولی رکھی تو پارٹیاں ضد بازی میں پانچ سالہ لیز جن میں توسیع بھی ہونا تھی کو6 لاکھ 25 ہزار فی ایکڑ تک لیز کی بولی پر لے گئیں اور ایک پارٹی نے زیادہ بولی پر متعدد افراد کی موجودگی میں اراضی اپنے نام کرا لی ،بعد ازاں اے سی کے دست راست کلرک اسلوب کے ذریعے محمد اسلم، خضر اور رشید وغیرہ سے ڈیل کر لی گئی اور ریکارڈ میں رد و بدل کر کے اوپن بولی کی رقم میں کمی کر کے اسے ایک سے ڈیڑھ لاکھ پر لے آئے اور اندر خانے سے ہی سرکاری خزانے میں تبدیل شدہ رقوم جمع کر کے باقی رقم کی بندر بانٹ کر لی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ کل 35 لاٹوں کی نیلامی ہوئی جو کہ مجموعی طور پر 400 ایکڑ سے زائد اراضی بنتی تھی اور6 لاکھ 25 ہزار فی روپے فی پلاٹ کے حساب سے یہ قیمت دو کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد بنتی تھی مگر ذرائع کے مطابق سرکاری خزانے میں مبینہ طور پر صرف 49 لاکھ روپے جمع ہوا اور باقی رقم تحصیل انتظامیہ اور الاٹی حضرات نے آپس میں اپنی اپنی حیثیت اور اپنے اپنے اختیار کے مطابق تقسیم کر لی ۔مقامی چولستانی باشندوں نے اس کرپشن پر ممبر کالونیزبورڈ آف ریونیو کو فوری مداخلت اور سخت کارروائی کی درخواست دائر کر دی ہے۔






