جہیز سامان بکنگ: حق مہر ایکسپریس کو دیکر تھل، کھڈے لائن، اور لوڈنگ بریک وین تباہ، ٹرین کو خطرہ

ملتان(واثق رئوف)ریلوے افسران اور نجی کمپنیوں کی ہوس زر نے ریلوے ریونیو نجی کمپنی کو منتقل کرنے کے ساتھ مسافر ٹرینوں کی سیفٹی کو دائو پر لگادیا ہے۔شادی سیزن میں نجی کمپنی کے تحت ملتان سے چلنے والی مہر ایکسپریس کو نوازنے کے لئے تھل ایکسپریس سے21سوکلوگرام پارسل بک کرنے والی بریک وین کو اتار دیا گیا۔صارفین جہیز سامان مہر ایکسپریس کے ذریعےبھجوانے اور کئی گنا زائد کرایہ دینے پر مجبور ہیں،کوئی پرسان حال نہیں ۔سب کچھ جانتے بوجھتے افسر شاہی نے آنکھیں موند لیں۔ ریلوے ملازمین، شہریوں،سیاسی حلقوں نے وفاقی وزیر ریلوے سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ریلوے میں نجی کمپنیوں اور افسر شاہی کے گٹھ جوڑ نے ریلوے کی رہی سہی آمدن کو بھی ہضم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ریلوے ذرائع کے مطابق عیدالفطر کے فوری بعد شادی سیزن شروع ہوجاتا ہے۔ ریلوےآج بھی پارسل بھجوانے کا سستا ترین ذریعہ سفر ہے تاہم نجی کمپنیوں اور افسر شاہی کی ہوس زر نے اس سستے ذریعہ پر بھی اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملتان سےراولپنڈی کے لئے برانچ لائن کے ریلوے سٹیشنزکوٹ ادو،لیہ،بھکر،کندیاں،اٹک،میانوالی، گولڑہ شریف کے لئے بک کئے جانے والے پارسل کو پہنچانے کے لئے پاکستان ریلوے کے پاس واحد تھل ایکسپریس تھی۔ تھل ایکسپریس کے ساتھ21سوکلوگرام پارسل بک کرنے کی صلاحیت والی بریک وین لگائی گئی تھی جس میں ملتان تا راولپنڈی سامان بکنگ فی کلو گرام کرایہ12روپے ہے جبکہ اس کے برعکس ملتان راولپنڈی کے لئے اس روٹ پر نجی کمپنی کے تحت چلنے والی مہر ایکسپریس ملتان راولپنڈی کے لئے پارسل بکنگ فی کلو گرام کا کرایہ25سے30روپے وصول کر رہی ہے۔ریلوے ذرائع کے مطابق عیدالفطر کے بعد شادی سیزن شروع ہوجاتا ہےجس کے ساتھ ہی شہری اپنی بیٹیوں کا مکمل جہیز سستے کرایہ کی بدولت تھل ایکسپریس کے ذریعے لیہ،بھکر، کندیاں،اٹک،میانوالی، گولڑہ شریف سمیت دیگر سٹیشنوں پر بھجواتے ہیں تاہم اس بارے شادی سیزن شروع ہونے سے قبل ہی تھل ایکسپریس سے 2100کلوگرام پارسل بک کرنے کی صلاحیت کی حامل بریک وین کو ٹرین سے اتار دیا گیا۔ذرائع کے مطابق دو ہفتے گزر جانے کے باوجود تاحال پارسل کےلئے تھل ایکسپریس کو بریک وین واپس نہیں لگایا جاسکا جبکہ تھل ایکسپریس پر جہیز بکنگ کے لئے آنے والے شہری باامر مجبوری جب کچھ نہیں کر پاتے تو کئی گنا زائد ریٹ پر سامان نجی کمپنی کی ٹرین مہر ایکسپریس سے بک کروا دیتے ہیں۔ نجی کمپنی کو جہاں زبردست مالی فائدہ ہورہا ہے وہیں صارف کا بھی زبردست استحصال اور ریلوے کا تشخیص خراب ہورہا ہے۔ دوسری طرف زائد بکنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی کمپنی مقررہ حد سے زائد سامان لوڈ کرکے سامان والی بوگیوں ،بریک وین کو نقصان پہنچانے کا بھی سبب بن رہی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ایک لگیج وان میں10ہزار جبکہ بریک وان میں 2100سوکلوگرام وزن لوڈ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے مقررہ وزن سے چند کلوگرام وزن بھی زائد لوڈ کیا جائے تو نہ صرف اس زائد وزن سے لیگج وان بلکہ ٹرین سیفٹی پر بھی سوالیہ نشان پیدا ہوجاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام نجی کمپنیاں جن کے پاس مسافر ٹرینوں کے لیگج وان یا بریک وان کی کمرشل مینجمنٹ کے ٹھیکے ہیں وہ کئی کئی سو کلو گرام زائد وزن لگیج اور بریک وان میں لوڈ کر رہی ہیں ۔گذشتہ سال8اگست کو بھی کراچی سے راولپنڈی جانے والی خیبر میل ایکسپریس کی سامان کی بوگی میں10ہزار کلوگرام کی بجائے17000کلوگرام وزن تھا جو مقررہ وزن کی حد سے7000ہزار کلوگرام زائد تھا جس کی وجہ سے راولپنڈی سٹیشن پر بوگی کا فرش ٹوٹ گیا تھا جبکہ اب مہر ایکسپریس کو نوازنے کے لئے تھل ایکسپریس سے بریک وین کو اس وقت اتار دیا گیا ہے جب شہری شادی سیزن کے لئے اپنی بیٹیوں کا جہیز بک کروانے کے لئے ملتان کینٹ سٹیشن کا رخ کر رہے ہیں ۔دوسری طرف مہر ایکسپریس کی کمرشل مینجمنٹ سنبھالنے والی کمپنی پارسل کا کئی گنا زائد کرایہ لینے کے ساتھ ساتھ کئی گنا زائد وزن لوڈ کرکے بریک وین کو تو برباد کر ہی رہی ہے۔ دوسری جانب ٹرین مسافروں کی سیفٹی کو بھی دائو پر لگا رکھا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ کراچی سے راولپنڈی تک کراچی،سکھر،ملتان،لاہور کے ڈویژنل کمرشل،مکینکل ، اسسٹنٹ کمرشل و مکینیکل افسران، ٹرین ایگزمینر ٹریفک سٹاف و دیگر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ انتہائی اوور لوڈ سامان کی بوگی کو چیک کرکے ٹرین سے علیحدہ کردیں۔ بوگی اوور لوڈنگ میں ملوث نجی کمپنی کی رپورٹ تیار کرکےکارروائی کے لئے متعلقہ افسران اور ریلوے ہیڈ کوارٹر کو بھجوائیں۔ ٹرین سیفٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں تاہم سب حصہ بقدر جثہ وصول کرکے ٹرین مسافروں کی زندگیوں سے تو کھیل ہی رہے ہیں بلکہ کروڑوں روپے مالیت کی سامان کی بوگیوں کو بھی تباہ کروا رہے ہیں ۔عوامی ،سیاسی حلقوں ، ریلوے ملازمین نے وزیر ریلوے،اعلیٰ ریلوے حکام اور دیگر ذمہ دران سےاس صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں